11 اگست 2026 کو دمشق کی ایک عدالت نے سابق صدر بشار الاسد کو ان کی غیر موجودگی میں قتل، تشدد، من مانی گرفتاریوں اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں موت کی سزا سنائی۔ ان کے بھائی ماہر الاسد اور سابق سکیورٹی عہدیدار عاطف نجیب کو بھی موت کی سزا سنائی گئی۔

عدالت میں صرف عاطف نجیب موجود تھے، جب کہ بشار اور ماہر الاسد روس میں موجود ہیں۔ یہ بشار الاسد کے خلاف شام کے اندر ہونے والی کارروائی میں پہلی باقاعدہ عدالتی سزا ہے۔

بشار الاسد کون ہیں؟

بشار الاسد 11 ستمبر 1965 کو شام کے دارالحکومت دمشق میں پیدا ہوئے۔ وہ حافظ الاسد کے دوسرے بیٹے تھے، جو 1971 سے 2000 تک شام کے صدر رہے۔

بشار الاسد کا ابتدائی کیریئر سیاست کے بجائے طب سے وابستہ تھا۔ انہوں نے دمشق یونیورسٹی سے طب کی تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر کے طور پر تربیت حاصل کرنے کے لیے برطانیہ بھی گئے۔

اس وقت ان کے بڑے بھائی باسل الاسد کو حافظ الاسد کا ممکنہ سیاسی جانشین سمجھا جاتا تھا، لیکن 1994 میں ایک کار حادثے میں باسل کی موت کے بعد بشار کو ملک کی سیاست میں آگے لایا گیا۔

یوں ایک ایسے شخص کی سیاسی تربیت شروع ہوئی جس کا ابتدائی منصوبہ شام کا حکمران بننا نہیں تھا۔

2000 میں والد کی وفات کے بعد اقتدار کی منتقلی

حافظ الاسد جون 2000 میں انتقال کر گئے۔ اس کے بعد 34 سالہ بشار الاسد کے صدر بننے کی راہ ہموار کی گئی۔ بشار کی عمر اس وقت شام کے آئینی طور پر مقرر کردہ صدارتی منصب کے لیے درکار عمر سے کم تھی، چنانچہ آئین میں ترمیم کرکے کم از کم عمر 40 سے گھٹا کر 34 سال کردی گئی۔

اس کے بعد بشار الاسد کو صدر منتخب کیا گیا۔ ان کے اقتدار کے ابتدائی دنوں میں شام کے بعض حلقوں کو امید تھی کہ نئی نسل کا یہ رہنما سیاسی آزادیوں اور اصلاحات کی طرف جائے گا۔ ابتدا میں سیاسی قیدیوں کی رہائی اور محدود سیاسی سرگرمیوں نے ان امیدوں کو مزید تقویت دی، لیکن یہ دور زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا۔

اصلاحات کی امید سے سخت حکمرانی تک

بشار الاسد کے ابتدائی دور میں جس سیاسی تبدیلی کی امید پیدا ہوئی تھی، وہ جلد ہی کمزور پڑنے لگی۔

حکومت نے سیاسی سرگرمیوں اور اختلافِ رائے پر پابندیاں برقرار رکھیں، جب کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے گرفتاریوں، تشدد اور سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائیوں کے الزامات سامنے آتے رہے۔

یہی پس منظر 2011 میں اس وقت مزید اہم ہوگیا جب عرب دنیا میں عرب بہار کے نام سے جانی جانے والی عوامی تحریکیں شام تک پہنچیں۔

درعا کے بچوں سے شروع ہونے والی بغاوت

مارچ 2011 میں جنوبی شام کے شہر درعا میں چند بچوں کی جانب سے حکومت مخالف نعرے دیواروں پر لکھے جانے کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا اور ان کے ساتھ مبینہ طور پر تشدد کیا گیا۔

اس واقعے نے مقامی سطح پر شدید ردعمل پیدا کیا اور احتجاج شروع ہوگیا۔ حکومت نے مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کی، جس کے بعد احتجاج شام کے دوسرے علاقوں تک پھیل گیا۔

ابتدائی طور پر مظاہرین سیاسی آزادی، اصلاحات اور حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے تھے، لیکن ریاستی کریک ڈاؤن کے بعد صورتحال مسلح تصادم میں تبدیل ہوگئی۔ 2011 ہی میں باغی گروہوں نے مسلح مزاحمت شروع کردی اور شام ایک طویل خانہ جنگی میں داخل ہوگیا۔

خانہ جنگی نے شام کو کیسے بدل دیا؟

شام کی جنگ صرف حکومت اور باغیوں کے درمیان محدود نہیں رہی۔ وقت گزرنے کے ساتھ مختلف مسلح گروہ، داعش، کرد فورسز اور متعدد بیرونی طاقتیں اس تنازع کا حصہ بن گئیں۔

روس اور ایران نے بشار الاسد کی حکومت کی حمایت کی، جب کہ ترکی، امریکا اور دیگر ممالک نے مختلف مراحل میں مختلف فریقوں کی حمایت یا فوجی کارروائیوں میں حصہ لیا۔

اس جنگ نے لاکھوں افراد کو ہلاک کیا اور شام کی آبادی کے ایک بڑے حصے کو اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور کیا۔ رائٹرز کے مطابق تقریباً 14 سالہ تنازع نے ملک کے بڑے حصے کو تباہ کردیا اور لاکھوں افراد متاثر ہوئے۔

کیمیائی ہتھیاروں کے الزامات نے عالمی توجہ کیوں حاصل کی؟

بشار الاسد کی حکومت کے خلاف سب سے سنگین الزامات میں کیمیائی ہتھیاروں کا مبینہ استعمال بھی شامل رہا۔ اگست 2013 میں دمشق کے نواحی علاقے غوطہ میں کیمیائی حملے کی تحقیقات کے دوران اقوام متحدہ کی ٹیم نے سارین گیس کے استعمال کے واضح شواہد رپورٹ کیے۔

اقوام متحدہ کے مطابق ماحولیاتی اور طبی نمونوں میں سارین کے شواہد ملے اور راکٹوں کے ٹکڑوں کے تجزیے سے بھی کیمیائی ایجنٹ کے استعمال کی تصدیق ہوئی۔

بعد میں اپریل 2018 میں دوما میں مبینہ کیمیائی حملے کی تحقیقات بھی ہوئیں۔ کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کی تنظیم او پی سی ڈبلیو نے 2019 میں کہا کہ اس واقعے میں زہریلے کیمیکل کو بطور ہتھیار استعمال کیے جانے کے معقول شواہد موجود ہیں۔

2023 میں او پی سی ڈبلیو کی انسیوٹیگیشن اینڈ آئی ڈینٹیفیکیشن ٹیم نے مزید تحقیقات کے بعد کہا کہ دوما حملے میں شامی فضائیہ کے ملوث ہونے کے معقول شواہد موجود ہیں اور اس حملے میں کلورین گیس استعمال کی گئی تھی، جس سے 43 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ کیمیائی حملوں سے متعلق بین الاقوامی تحقیقات اور بشار الاسد کے خلاف موجودہ شامی عدالتی فیصلے الگ قانونی معاملات ہیں۔

2014 میں تیسری بار صدر کیسے بنے؟

جنگ کے باوجود بشار الاسد اقتدار میں برقرار رہے۔ 2014 میں شام میں صدارتی انتخاب ہوا جس میں بشار الاسد نے کامیابی حاصل کی۔ اس انتخاب کی شفافیت اور سیاسی ماحول پر اپوزیشن اور مغربی ممالک نے شدید اعتراضات کیے۔

روس اور ایران کی مسلسل حمایت نے بھی بشار حکومت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 2015 میں روس نے شام میں براہ راست فوجی مداخلت کی، جس سے حکومت کو باغیوں کے خلاف جنگ میں فیصلہ کن مدد ملی اور بشار الاسد کی پوزیشن مزید مضبوط ہوگئی۔

کیا بشار الاسد کو پہلے بھی عدالتوں کا سامنا کرنا پڑا؟

جی ہاں، لیکن آج 11 اگست 2026 کا فیصلہ شام کے اندر بشار الاسد کے خلاف پہلی باقاعدہ عدالتی سزا ہے۔ اس سے پہلے مختلف ممالک میں ان کے خلاف تحقیقات، مقدمات اور گرفتاری کے وارنٹ سامنے آتے رہے، مگر وہ شام کی عدالت میں سزا یافتہ نہیں ہوئے تھے۔

فرانس میں 2023 میں بشار الاسد کے خلاف 2013 کے غوطہ کیمیائی حملوں سے متعلق انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم میں معاونت کے الزام میں گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا گیا تھا۔

تاہم جولائی 2025 میں فرانس کی اعلیٰ ترین عدالت کورٹ آف کیسیشن نے اس وقت کے وارنٹ کو منسوخ کردیا کیونکہ اس وقت بشار الاسد سربراہِ مملکت کی حیثیت سے ذاتی استثنیٰ رکھتے تھے۔ عدالت کے فیصلے کے بعد ان کے اقتدار سے ہٹ جانے کی صورتحال میں نئے قانونی اقدامات کی گنجائش بھی پیدا ہوئی۔

ادھر ستمبر 2025 میں شام کی ایک عدالت نے درعا میں 2011 کے واقعات سے متعلق بشار الاسد کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا۔ ان پر پیشگی قتل، تشدد کے نتیجے میں موت اور آزادی سے محروم کرنے جیسے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

دسمبر 2024 میں اقتدار کا خاتمہ کیسے ہوا؟

بشار الاسد کا اقتدار اچانک نہیں بلکہ ایک تیز رفتار باغی پیش قدمی کے نتیجے میں ختم ہوا۔ نومبر 2024 کے آخر میں باغی گروہوں نے شمال مغربی شام سے بڑی کارروائی شروع کی۔ حلب سمیت اہم علاقوں پر قبضے کے بعد باغی تیزی سے جنوب کی طرف بڑھے اور بالآخر 8 دسمبر 2024 کو دمشق میں داخل ہوگئے۔

بشار الاسد شام سے نکل گئے اور روس پہنچ گئے۔ روس نے تصدیق کی کہ انہیں اور ان کے خاندان کو انسانی بنیادوں پر پناہ دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی شام میں ان کے خاندان کی تقریباً چھ دہائیوں پر محیط حکمرانی کا خاتمہ ہوگیا۔

بشار الاسد اس وقت کہاں ہیں؟

بشار الاسد اس وقت روس میں موجود ہیں۔ ان کے خلاف دمشق کی عدالت کا تازہ فیصلہ ان کی غیر موجودگی میں سنایا گیا ہے۔ یعنی عدالت نے سزا تو سنا دی ہے، لیکن بشار الاسد اس وقت شام کی تحویل میں نہیں ہیں۔

خیال رہے کہ یہی معاملہ اس فیصلے کو عملی طور پر پیچیدہ بناتا ہے۔ شام کو انہیں گرفتار کرکے عدالت کے سامنے پیش کرنے کے لیے روسی تعاون درکار ہوگا، جب کہ روس نے پہلے ہی انہیں پناہ دے رکھی ہے۔ رائٹرز کے مطابق شام کی نئی حکومت نے ان کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے۔

موت کی سزا کیوں سنائی گئی؟

11 اگست 2026 کے فیصلے میں بشار الاسد کو پیشگی قتل، تشدد، من مانی گرفتاریوں اور انسانیت کے خلاف جرائم کا مجرم قرار دیا گیا۔ یہ مقدمہ تقریباً 14 سالہ خانہ جنگی کے دوران ہونے والے جرائم سے متعلق تھا۔

عدالت کے مطابق بشار الاسد کو ان جرائم میں ذمہ دار قرار دیا گیا اور انہیں موت کی سزا سنائی گئی۔ ان کے بھائی ماہر الاسد اور سابق سکیورٹی عہدیدار عاطف نجیب کو بھی موت کی سزا دی گئی۔

عاطف نجیب کا نام خاص طور پر 2011 کی درعا تحریک کے ابتدائی کریک ڈاؤن سے منسلک رہا ہے۔ وہ اس مقدمے میں عدالت میں موجود واحد بڑے ملزم تھے، جب کہ بشار اور ماہر الاسد غیر حاضر تھے۔

کیا روس بشارالاسد کو شام کے حوالے کرے گا؟

موجودہ حالات میں اس کا کوئی یقینی جواب نہیں۔ روس نے 2024 میں انہیں انسانی بنیادوں پر پناہ دی تھی اور دونوں ممالک کے تعلقات میں روسی فوجی اڈوں سمیت کئی اہم معاملات اب بھی زیر بحث ہیں۔

اگست 2026 میں شام اور روس نے روسی فوجی تنصیبات کے مستقبل سے متعلق ایک نیا معاہدہ بھی کیا ہے، جو دونوں ممالک کے تعلقات کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

کیا یہ فیصلہ صرف علامتی ہے؟

قانونی اعتبار سے یہ فیصلہ اہم ہے کیونکہ یہ بشار الاسد کے خلاف شام کے اندر پہلی عدالتی سزا ہے۔ اس کے ذریعے عدالت نے ریاستی ریکارڈ میں ان کے خلاف جرائم اور ذمہ داری سے متعلق ایک باقاعدہ فیصلہ درج کیا ہے۔

تاہم اس فیصلے کا عملی نتیجہ اس وقت تک محدود رہے گا جب تک بشار الاسد شام کی تحویل میں نہیں آتے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھی فیصلے کی علامتی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے موت کی سزا کی مخالفت اور منصفانہ عدالتی کارروائی کے اصولوں پر زور دیا ہے۔

دوسری جانب شامی حکومت کے لیے یہ فیصلہ عبوری انصاف کے عمل کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، خاص طور پر ان خاندانوں کے لیے جنہوں نے جنگ کے دوران اپنے پیاروں کو کھویا یا اپنے عزیزوں کی گمشدگی کا سامنا کیا۔

اب آگے کیا ہوگا؟

اب اصل سوال سزا سنائے جانے سے زیادہ اس پر عمل درآمد کا ہے۔ شام کے لیے سب سے بڑا عملی مرحلہ بشار الاسد کی حوالگی حاصل کرنا ہوگا۔ اگر روس انہیں شام کے حوالے نہیں کرتا تو دمشق کی عدالت کا فیصلہ فوری طور پر عملی سزا میں تبدیل نہیں ہوسکے گا۔

دوسری طرف بشار الاسد کے خلاف بیرون ملک قانونی کارروائیوں کا سلسلہ بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ فرانس میں سابق صدر کے خلاف مختلف واقعات سے متعلق قانونی کارروائیوں کے راستے موجود ہیں، جبکہ شام میں نئی حکومت سابق حکام کے خلاف مزید مقدمات آگے بڑھا رہی ہے۔

یہ بھی اہم ہے کہ بشار الاسد کے خلاف مقدمہ ایک ایسے ملک میں چل رہا ہے جو خود ایک طویل جنگ، لاکھوں متاثرین، بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور ریاستی اداروں کی تباہی سے گزر چکا ہے۔

اس لیے یہ معاملہ صرف ایک سابق صدر کی سزا کا نہیں بلکہ شام میں عبوری انصاف، متاثرین کو انصاف کی فراہمی اور ماضی کے جرائم کے احتساب کا بھی امتحان ہے۔