مراکش کی سرکاری خبر رساں ایجنسی مغرب عربی پریس نے عارضی اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا کہ اس افسوسناک واقعے میں اب تک 19 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ دیگر متاثرہ افراد کی تلاش جاری ہے جو اب بھی ملبے کے نیچے دبے ہو سکتے ہیں۔
ایجنسی کے مطابق یہ دو ملحقہ عمارتیں تھیں جن میں آٹھ خاندان مقیم تھے۔ عمارتیں رات گئے شمالی شہر فیس کے المستقبل محلے کے علاقے المسیرہ میں اچانک منہدم ہوئیں۔
صبح سے پہلے کے وقت کی تصاویر میں دیکھا گیا کہ ریسکیو کارکنان ایک لاش کو خاکی رنگ کے باڈی بیگ میں اٹھا کر ایمبولینس کی جانب منتقل کر رہے تھے، جب کہ علاقے کے رہائشی بڑی تعداد میں امدادی کارروائیوں کو دیکھنے کے لیے جمع تھے۔
دیگر امدادی اہلکار جیک ہیمر اور پکیکس کی مدد سے ملبہ ہٹا رہے تھے اور انہیں وقتاً فوقتاً مکینیکل ایکسکیویٹرز بھی معاونت فراہم کر رہے تھے۔
مقامی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے کیونکہ کئی لوگ اب بھی ملبے میں پھنسے ہونے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کا پاکستان میں ریکوڈک منصوبے کے ذریعے 1.25 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان
نیوز ایجنسی کے مطابق امدادی ٹیموں نے علاقے میں ضروری حفاظتی اقدامات کیے ہیں، جن میں عمارت کے اردگرد کے علاقے کو سیل کرنا اور قریبی عمارتوں کو احتیاطی طور پر خالی کرانا شامل ہے۔ زخمیوں کو فیزیونیورسٹی ہسپتال سینٹر منتقل کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ یہ حادثہ حالیہ برسوں میں شہر فیز اور ملک بھر میں پیش آنے والے مہلک ترین واقعات میں سے ایک ہے۔
گزشتہ سال فروری میں بھی اسی قدیم شہر میں ایک گھر کے اچانک گرنے سے پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔2016 میں بھی ایک ہفتے کے دوران دو سنگین حادثات پیش آئے تھے، جس میں ماراکیش میں ایک مکان گرنے سے دو بچے جاں بحق ہوئے، جب کہ دوسری چار منزلہ عمارت گرنے سے چار افراد ہلاک اور دو درجن زخمی ہوئے تھے۔
2014 میں کاسا بلانکا میں تین عمارتیں گرنے کے نتیجے میں 23 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔






