عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق میونخ سیکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یوکرینی صدر نے کہا کہ ہمیں واقعی امید ہے کہ آئندہ ہفتے ہونے والی سہ فریقی ملاقاتیں سنجیدہ، ٹھوس اور سب کے لیے مفید ثابت ہوں گی، لیکن دیانتداری سے کہا جائے تو بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فریقین بالکل مختلف موضوعات پر بات کر رہے ہیں۔
زیلنسکی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کچھ حد تک دباؤ محسوس ہو رہا ہے۔ امریکی صدر نے گزشتہ روز کہا تھا کہ زیلنسکی کو جلد امن قائم کرنے کے موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی حکام اکثر رعایتوں کے موضوع پر واپس آتے ہیں اور بدقسمتی سے یہ رعایتیں زیادہ تر صرف یوکرین کے تناظر میں زیر بحث آتی ہیں، روس کے حوالے سے نہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکا مذاکراتی عمل میں شامل رہے گا اور یورپ کو بھی بڑا کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔ اس وقت یورپ کو مذاکراتی عمل میں پس منظر میں رکھا جا رہا ہے، حالانکہ اسے زیادہ فعال کردار ملنا چاہیے۔
زیلنسکی نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ امریکا میں کانگریس کے وسط مدتی انتخابات کے باعث ٹرمپ انتظامیہ کی توجہ گرمیوں کے بعد داخلی سیاست کی جانب منتقل ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ یوکرین اور روس کے درمیان حالیہ دنوں میں واشنگٹن کی ثالثی میں ابو ظہبی میں دو ادوار کے مذاکرات ہو چکے ہیں، جنہیں دونوں جانب سے تعمیری قرار دیا گیا، تاہم کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔
یہ بھی پڑھیں: تبدیلی بہترین چیز ، ٹرمپ انتظامیہ کا مشرقِ وسطیٰ میں دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے کا اعلان
روس کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ جنیوا مذاکرات میں روسی وفد کی قیادت صدر پیوٹن کے مشیر ولادیمیر مڈینسکی کریں گے، جو ابو ظہبی مذاکرات سے مختلف ہوگا جہاں روسی ٹیم کی سربراہی فوجی انٹیلی جنس کے سربراہ اگورکاسٹیکو نے کی تھی۔
یوکرینی ذرائع اس سے قبل میڈنسکی کے طرزِ عمل پر تنقید کر چکے ہیں اور الزام عائد کیا تھا کہ وہ سنجیدہ مذاکرات کے بجائے تاریخی حوالوں پر طویل گفتگو کرتے رہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جنیوا مذاکرات خطے میں جاری جنگ کے تناظر میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم اصل پیش رفت کا انحصار فریقین کی عملی لچک اور سیاسی عزم پر ہوگا۔







