ایرانی خبر ایجنسی ایسنا کے مطابق مجلس خبرگان کے رکن علی معلمی نے بیان میں کہا کہ نئے رہبر اعلیٰ کے انتخاب کا عمل طویل نہیں ہوگا اور جلد ہی اس حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئے گی،مجلس خبرگان کے ارکان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ انتخابی عمل میں کسی قسم کے ذاتی، سیاسی یا جماعتی رجحانات کو اثر انداز نہیں ہونے دیا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ مجلس خبرگان کے تمام اراکین اسلامی اصولوں، آئینی تقاضوں اور اپنی شرعی ذمہ داریوں کے تحت فیصلہ کریں گے تاکہ قیادت کا انتخاب مکمل شفافیت کے ساتھ ہو۔ علی معلمی کے مطابق ماضی کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اس بار بھی ایسی شخصیت کا انتخاب کیا جائے گا جو انقلاب کے بنیادی نظریات اور قومی مفادات کی پاسداری کرے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ عبوری انتظام کے لیے قائم کونسل ملک کے امور چلا رہی ہے اور ریاستی معاملات معمول کے مطابق جاری ہیں۔ یاد رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای حالیہ حملے میں جاں بحق ہوگئے تھے، جس کے بعد ملک بھر میں سوگ کی فضا پائی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا کے پاس دنیا کے جدید اور بہترین اسلحے کے وسیع ذخائر موجود ہیں:صدر ٹرمپ

مجلس خبرگان آئینی طور پر ایران میں سپریم لیڈر کے انتخاب کی مجاز اتھارٹی ہے اور مذہبی ماہرین پر مشتمل ایک بااختیار ادارہ ہے، ماضی کی طرح اس بار بھی بروقت اور متفقہ فیصلہ کیا جائے گا تاکہ قیادت کے حوالے سے کسی قسم کا خلا پیدا نہ ہو۔

سیاسی مبصرین کے مطابق نئے سپریم لیڈر کا انتخاب ایران کی داخلی اور خارجی پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے، تاہم حکومتی حلقوں کا اصرار ہے کہ تمام مراحل جلد مکمل کر لیے جائیں گے اور ملک میں استحکام برقرار رکھا جائے گا۔