عالمی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق امریکی صدر نے اتوار کو صدارتی طیارے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے فی الحال مذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں یہ کہنا مشکل ہے کہ آخر میں کون باقی بچے گا جو ہتھیار ڈالنے کا اعلان کرے، خطے میں موجود کرد جنگجو ایران کی حکومت کے خلاف کارروائیوں میں مدد دینے کے لیے تیار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مگر کردوں کی شمولیت سے تنازع مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے، کردوں کو شامل کیے بغیر ہی جنگ کافی پیچیدہ ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک ایران کی فوج اور موجودہ حکمرانوں کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔
صدر ٹرمپ نے 2003 میں شروع ہونے والی عراق جنگ کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں یہ سب سے بڑی امریکی فوجی کارروائی قرار دیتے ہوئے ایران کے خلاف اقدام کا دفاع کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ تہران امریکا کے لیے فوری خطرہ بن چکا تھا اور ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت کے قریب پہنچ گیا تھا، تاہم انہوں نے اس دعوے کے لیے کوئی ثبوت پیش نہیں کیے۔
ایک اور انٹرویو میں امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر پر قبضہ کرنے کے لیے امریکی فوج بھیجنے کا امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ تمام آپشنز زیرِ غور ہیں اور امریکا اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ ایران دوبارہ جوہری صلاحیت حاصل نہ کر سکے۔
مزید پڑھیں: ایران میں ایسی قیادت چاہتے ہیں جو ملک کو جنگ کی طرف نہ لے جائے، صدر ٹرمپ
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے اگلے سپریم لیڈر کو امریکا کی منظوری درکار ہوگی، اگر کسی نئے رہنما کو واشنگٹن کی حمایت حاصل نہ ہوئی تو وہ زیادہ عرصہ اقتدار میں نہیں رہ سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا ایسی ایرانی قیادت کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو سکتا ہے جس کا تعلق سابق حکومت کے نظام سے ہو، تاہم واشنگٹن کی منظوری کے بغیر کوئی بھی قیادت دیر تک برقرار نہیں رہ سکے گی۔
خیال رہے کہ ایران میں سیاسی صورتحال بھی غیر یقینی ہے اور اطلاعات کے مطابق ملک میں نیا سپریم لیڈر منتخب کرنے کی تیاری جاری ہے، جب کہ خطے میں میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔







