ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو حکومت کی پالیسیاں علاقائی کشیدگی میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں اور عالمی سلامتی کے لیے بھی خطرات پیدا کر رہی ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس صورتحال کو سمجھتے ہیں۔
حاقان فیدان نے اپنے بیان میں کہا کہ حماس، حزب اللہ اور ایران کے ساتھ تنازعات کے بعد اسرائیلی حکومت اب ایک نئے حریف کی تلاش میں ہے تاکہ اپنی سیاسی مشکلات کو کم کرنے اور عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر سکے۔
ترک وزیر خارجہ نے الزام عائد کیا کہ نیتن یاہو اور ان کے اتحادی موجودہ حالات میں ترکیہ کو ایک نئے مخالف کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، خطے میں مزید کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں اور مسائل کا حل تصادم کے بجائے سفارتی ذرائع سے تلاش کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل میں انتخابات قریب آنے کے ساتھ ہی بعض سیاسی قوتوں کو اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے نئے بیانیے اور نئے چیلنجز کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، اسی سیاسی ماحول میں نیتن یاہو اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے مختلف ممالک کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم کا ایرانی صدر سے ٹیلیفونک رابطہ، تمام فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں
حاقان فیدان نے زور دیا کہ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے تمام ممالک کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا، خطے میں جاری تنازعات کے اثرات صرف متعلقہ ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی امن اور سلامتی پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔
ترک وزیر خارجہ کے بیان کے بعد خطے کی سیاسی صورتحال پر ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے، جبکہ اسرائیل اور ترکیہ کے درمیان تعلقات پہلے ہی مختلف معاملات پر کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔







