عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق امیر خان متقی نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ واقعہ مکمل طور پر انفرادی سطح پر پیش آیا ہے۔ اس واقعے کا افغانستان کے معزز عوام یا افغان حکومت سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ایک شخص کا مجرمانہ عمل ہے اور جس نے یہ عمل کیا وہ خود امریکیوں کا تربیت یافتہ تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں (امریکیوں نے) تربیت دی، انہی کے مشن پر رکھا اور عالمی اصولوں کے منافی طریقے سے افغانستان سے نکال کر براہِ راست امریکا منتقل کیا۔
خیال رہے کہ طالبان حکومت کی جانب سے اس واقعے پر یہ پہلا باضابطہ ردعمل ہے۔ گزشتہ ہفتے امریکی دارالحکومت میں افغان نژاد رہائشی رحمٰن اللہ لکانوال پر ایک نیشنل گارڈ اہلکار کو ہلاک اور دوسرے کو شدید زخمی کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
منگل کے روز ملزم کو اسپتال کے بستر سے ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں اس پر قتل سمیت دیگر سنگین الزامات عائد کیے گئے۔
مزید پڑھیں: افغانستان میں 15 لاکھ افراد معذوری کا شکار ہیں، اقوامِ متحدہ
امریکی حکام کے مطابق لکانوال افغانستان میں سی آئی اے کے تعاون سے قائم ایک یونٹ کا حصہ تھا اور 2021 میں طالبان کے افغانستان پر دوبارہ کنٹرول کے بعد وہ آپریشن الائیز ویلکم کے تحت امریکا منتقل ہوا تھا۔ یہ پروگرام سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے اُن افغانوں کے لیے شروع کیا تھا جنہیں طالبان کی جانب سے انتقامی کارروائیوں کا خوف تھا۔
امریکی میڈیا رپورٹوں کے مطابق لکانوال کو امریکا میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں پناہ بھی دی گئی تھی، تاہم اس واقعے نے امریکا میں جاری امیگریشن بحث کو ایک بار پھر تیز کر دیا ہے۔







