وینزویلا کی صورتحال پر بحث کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس جاری ہے، جس کے ایجنڈے میں بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات پر غور شامل ہے۔
سلامتی کونسل کے اجلاس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا تحریری بیان پڑھ کر سنایا گیا۔
اپنے بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے، وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ اس وقت امریکی تحویل میں ہیں، جب کہ اس صورتحال کے باعث وینزویلا میں عدم استحکام پھیلنے اور پورے خطے پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ تمام فریقین اقوام متحدہ کے چارٹر کی مکمل پاسداری کریں اور جامع، جمہوری مکالمہ شروع کریں تاکہ معاشرے کے تمام طبقات اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر سکیں۔
یو این سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر اور تمام متعلقہ قانونی فریم ورک کا احترام ناگزیر ہے، جب کہ ریاستوں کی خودمختاری، سیاسی آزادی اور علاقائی سالمیت کے اصولوں کا احترام بھی لازم ہے۔
انتونیو گوتریس نے واضح کیا کہ دھمکی یا طاقت کے استعمال پر پابندی ضروری ہے اور قانون کی بالادستی کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون میں منشیات کی غیر قانونی اسمگلنگ، وسائل سے متعلق تنازعات اور انسانی حقوق کے مسائل کے حل کے مؤثر ذرائع موجود ہیں۔
سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت کسی بھی ریاست کی سالمیت یا آزادی کے خلاف طاقت یا دھمکی کا استعمال ممنوع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہتھکڑیوں میں جکڑے، لنگڑاتے ہوئے نکولس مادورو اور اُن کی اہلیہ کو نیویارک عدالت پہنچا دیا گیا
انہوں نے بتایا کہ وینزویلا حکومت کی درخواست پر مقرر کیے گئے انتخابی ماہرین کے پینل نے انتخابی عمل میں سنگین مسائل کی نشاندہی کی ہے۔
انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے انتخابات کے نتائج کی مکمل شفافیت اور ان کی مکمل اشاعت کے لیے مسلسل اپیل کی جاتی رہی ہے۔







