برطانوی میڈیا کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں اے ایس دلت نے کہا کہ بھارت کی جانب سے برسوں سے پاکستان کو دنیا میں الگ تھلگ کرنے کی کوششیں کی جاتی رہیں، تاہم وقت نے ثابت کیا کہ یہ حکمت عملی مؤثر ثابت نہیں ہوسکی، پاکستان ایک حقیقت ہے اور اسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔
سابق بھارتی خفیہ سربراہ نے کہا کہ پاکستان نہ کبھی ٹوٹا ہے اور نہ ہی مستقبل میں ٹوٹے گا، بلکہ موجودہ حالات میں پاکستان عالمی اور علاقائی سیاست میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، پاکستان اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطوں اور ثالثی میں بھی کردار ادا کر رہا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی سفارتی اہمیت برقرار ہے۔
اے ایس دلت نے مسئلہ کشمیر پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس دیرینہ تنازع کا واحد حل مذاکرات ہیں، زور دیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کا سلسلہ کبھی معطل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پورے خطے کے امن کو متاثر کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں جب بھی دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ہوئے تو اس کے مثبت نتائج سامنے آئے، لیکن سیاسی اختلافات اور سخت مؤقف نے امن عمل کو نقصان پہنچایا۔ ان کے مطابق جنگ یا دھمکیوں کے بجائے سفارت کاری ہی جنوبی ایشیا میں استحکام لا سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: اسرائیلی افواج اب غزہ کی پٹی کے 60 فیصد حصے پر کنٹرول حاصل کر چکی، نیتن یاہو
دوسری جانب بھارت میں بھی حالیہ دنوں میں کئی اہم شخصیات کی جانب سے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی حمایت سامنے آ رہی ہے۔ دو روز قبل آر ایس ایس کے سیکریٹری جنرل دتاتریہ ہوسابالے نے کہا تھا کہ بھارت کو ہر وقت پاکستان سے مذاکرات کے لیے تیار رہنا چاہیے اور بات چیت کے دروازے بند نہیں کرنے چاہییں۔
اسی طرح بھارتی فوج کے سابق سربراہ جنرل منوج نروانے نے بھی کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے عوام کے مسائل ایک جیسے ہیں اور عام شہری سیاست یا تنازعات سے زیادہ امن اور ترقی چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ بھارتی شخصیات کے حالیہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بھارت میں بھی اب یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے پاکستان کے ساتھ مسلسل رابطہ اور مذاکرات ناگزیر ہیں۔







