خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک پاکستانی ذریعے نے بتایا کہ اسرائیل کے پاس دونوں ایرانی رہنماؤں کی لوکیشن موجود تھی اور انہیں ہدف بنانے کی تیاری کی جا رہی تھی، تاہم پاکستان نے امریکا کو پیغام دیا کہ اگر ان شخصیات کو بھی ختم کر دیا گیا تو مذاکرات کے لیے کوئی اہم فریق باقی نہیں رہے گا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کے اس مؤقف کے بعد امریکا نے اسرائیل سے رابطہ کر کے دونوں رہنماؤں کو نشانہ بنانے سے روک دیا، جس کے نتیجے میں انہیں عارضی طور پر اسرائیلی  ہٹ لسٹ  سے نکال دیا گیا۔

اس پیش رفت کے حوالے سے پاکستان کی فوج یا دفتر خارجہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد نے اس پورے عمل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ ان دونوں ایرانی شخصیات کو چند دنوں کے لیے ہدفی فہرست سے ہٹا دیا گیا ہے، تاہم اس رپورٹ میں پاکستان کے کردار کا ذکر نہیں کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان، مصر اور ترکیہ اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہیں، جب کہ اسلام آباد دونوں ممالک کے ساتھ براہ راست رابطے میں ہے، جو دیگر ممالک کے مقابلے میں ایک اہم سفارتی حیثیت رکھتا ہے۔

دھیان رہے كہ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے پندرہ نکاتی امن منصوبے کا جائزہ لے رہا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران سنجیدہ ہو جائے ورنہ واپسی کا راستہ نہیں ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

اس منصوبے میں ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیاں، میزائل پروگرام میں کمی اور علاقائی حمایت ختم کرنے جیسے نکات شامل ہیں۔

اگرچہ صدر ٹرمپ نے معاہدے کی خواہش ظاہر کی ہے، تاہم ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ ایران فی الحال جنگ کے خاتمے کے لیے براہ راست مذاکرات کا ارادہ نہیں رکھتا۔

ماہرین کے مطابق پاکستان کی یہ مداخلت خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ کلیدی رہنماؤں کی موجودگی کسی بھی سفارتی عمل کے لیے ناگزیر سمجھی جاتی ہے۔