غیر ملکی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق جمعہ کے روز 1.4 ارب کیتھولک آبادی کے روحانی پیشوا نے اپنا دن استنبول کے کیتھولک کیتھیڈرل آف دی ہولی اسپِرٹ میں دعائیہ سروس سے شروع کیا۔

پہلے امریکی پوپ نے اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے لیے مسلم اکثریتی ملک ترکیہ کا انتخاب کیا ہے، جس کے بعد وہ لبنان جائیں گے۔ جاری عالمی کشیدگی کے ماحول میں پوپ کا مقصد امن، مکالمے اور مصالحت کا پیغام عام کرنا ہے۔

استنبول میں پوپ کے گزرنے کے لیے پولیس نے مرکزی شاہراہ کو بند کردیا۔ چرچ سروس کے بعد پوپ لیو کے شیڈول میں ایک نرسنگ ہوم کا دورہ اور ترکیہ کے چیف ربی سے ملاقات بھی شامل تھی۔

ہولی اسپِرٹ چرچ میں عازمین کی بڑی تعداد موجود تھی، جب کہ سروس کے دوران درجنوں افراد باہر صحن میں بھی پوپ کی ایک جھلک دیکھنے کے منتظر رہے۔ کئی لوگ فجر سے پہلے پہنچ کر قطار میں لگ گئے تھے۔

35 سالہ ترک کیتھولک علی گونورو نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہمارے لیے یہ بہت بڑا اعزاز ہے کہ پوپ کا پہلا دورہ ہمارے ملک کا ہے۔ فلپائنی کارکن کیتھرین برمیڈیز نے الجزیرہ سے گفتگو میں پوپ سے ملاقات کے لیے منتخب ہونے پر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔

مزید پڑھیں: پوپ لیو کا لبنان اور ترکی کا پہلا غیر ملکی دورہ، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے درمیان امن کے پیغام کی امید

دعائیہ سروس کے دوران پوپ کا چہرہ واضح طور پر خوش اور پُرسکون دکھائی دیا۔ انہوں نے اپنے پیروکاروں کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ چھوٹا ہونا کمزوری نہیں، یہی چرچ کی اصل طاقت ہے۔ انہوں نے ترکیہ میں رہنے والے تقریباً 30 لاکھ مہاجرین اور پناہ گزینوں خصوصاً شامیوں کی مدد پر زور دیا۔

جمعہ کی شام 70 سالہ پوپ ہیلی کاپٹر کے ذریعے ازنک (نائسیا) روانہ ہوں گے، جہاں وہ مسیحی تاریخ کے اہم ترین اجلاس فرسٹ کونسل آف نائسیا کی 1700 سالہ تقریب میں شرکت کریں گے۔ یہ وہ اجلاس تھا جس میں عیسائی عقائد کا بنیادی بیانِ ایمان مرتب کیا گیا تھا۔

پوپ کو اس تقریب میں شرکت کی دعوت بارتھولومیو اول، روحانی پیشوأ آرتھوڈوکس چرچ نے دی ہے۔ چوتھی صدی کی ایک قدیم عبادت گاہ کے کھنڈرات میں مشترکہ دعائیہ تقریب منعقد کی جائے گی۔

بارتھولومیو اول نے اے ایف پی کو بتایا کہ جنگوں اور تقسیم سے بھرے اس دور میں پوپ لیو سے ملاقات کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ترک پولیس نے جمعرات کے روز ازنک سے محمد علی آقچا کو ہٹا دیا، جو 1981 میں روم میں پوپ جان پال دوم پر قاتلانہ حملہ کرنے کا مرتکب ہوا تھا۔

2010 میں رہا ہونے والے آقچا کا کہنا تھا کہ میں پوپ لیو سے ملاقات کی امید رکھتا ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ ہم دو تین منٹ بیٹھ کر بات کر سکیں۔

واضح رہے کہ پوپ لیو چہاردہم ترکیہ کا دورہ کرنے والے پانچویں پوپ ہیں۔ اس سے قبل پوپ پال ششم (1967)، جان پال دوم (1979)، بینیڈکٹ شانزدہم (2006) اور پوپ فرانسس (2014) نے ترکیہ کا دورہ کیا تھا۔