انہوں نے حالیہ کشیدگی کے تناظر میں کہا کہ ایران خطے میں استحکام اور امن کا خواہاں ہے اور اسی مقصد کے تحت پڑوسی ممالک کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ان کی سرزمین کو کسی قسم کے حملوں کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔
انہوں نے گزشتہ دنوں ہونے والے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان کارروائیوں سے کسی بھی پڑوسی ملک کو تشویش یا نقصان پہنچا ہے تو ایران اس پر معذرت خواہ ہے، ایران کا دیگر ممالک کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں اور تہران خطے میں تعاون اور اعتماد کو فروغ دینا چاہتا ہے۔
ان کے مطابق عبوری لیڈر شپ کونسل نے اس بات کی باضابطہ منظوری دے دی ہے کہ پڑوسی ممالک کے خلاف کسی قسم کے حملے یا میزائل کارروائی نہیں کی جائے گی، ایران صرف اسی صورت میں ردعمل دے گا جب کسی دوسرے ملک کی سرزمین سے ایران پر حملہ کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے معاملے میں کسی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا،ایران امریکا اور اسرائیل کے سامنے ہرگز سرنڈر نہیں کرے گا اور ایرانی قوم اپنی آزادی اور وقار کے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے عوام پر دباؤ ڈالنے کی خواہش رکھنے والے عناصر کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا اور دشمن کو ایرانی عوام کے عزم اور مزاحمت کا سامنا کرنا ہوگا۔
مزید پڑھیں: امریکا کی اسرائیل کو 151 ملین ڈالر کے بم فروخت کرنے کی منظوری، دفاعی تعاون مزید مضبوط
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں خطے میں کشیدگی اس وقت بڑھ گئی تھی جب ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حملوں کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے بعض پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا تھا۔ ان حملوں کے نتیجے میں متعدد مقامات پر نقصان اور شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔
یاد رہے کہ ایران کی جانب سے پڑوسی ممالک کو دی گئی یہ یقین دہانی خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی روابط کو بہتر بنانے کی کوشش قرار دی جا رہی ہے۔







