غیرملكی نشریاتی ادارے الجزیرہ كے مطابق کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ یہ ابتدائی اقدامات دونوں ممالک کے تعلقات کی بحالی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے كہا كہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اس دورے کے لیے اہم ہدایات جاری کی ہیں اور انہیں مذاکرات کی مکمل تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا۔
دھیان رہے كہ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکا کی ثالثی میں یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
گزشتہ سال ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں، مگر اب تک کوئی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی، جب کہ روس نے اپنی فوجی کارروائی روکنے کے لیے کسی بھی سمجھوتے کو مسترد کر دیا ہے۔
مغربی انٹیلی جنس حکام کے مطابق روس کو ایران کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے اور اسے ایران کی حمایت کرنے والے ممالک میں شامل کیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ میں مصروف ہے۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ روس ایران کو ڈرونز کی بڑی کھیپ فراہم کرنے کے قریب ہے، تاہم پیسکوف نے ان خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا میں بہت سی غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں اور ان پر توجہ نہ دی جائے۔
دوسری جانب روس نے حالیہ دنوں میں یوکرین پر بڑے فضائی حملے کیے، جن میں 24 گھنٹوں کے دوران 948 ڈرونز استعمال کیے گئے۔ روسی افواج نے فرنٹ لائن پر مزید فوجی اور سازوسامان بھی منتقل کیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران سنجیدہ ہو جائے ورنہ واپسی کا راستہ نہیں ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے ایک بار پھر اپنے اتحادیوں سے فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا کی توجہ ایران جنگ پر مرکوز ہونے کے باعث یوکرین کو میزائلوں کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔
فلوریڈا میں امریکا اور یوکرین کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات بھی کسی ٹھوس نتیجے پر نہیں پہنچ سکے اور کیف کو وہ سکیورٹی ضمانتیں نہیں مل سکیں جن کا وہ طویل عرصے سے مطالبہ کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق روسی وفد کا یہ دورہ اگرچہ مثبت اشارہ ہے، تاہم یوکرین جنگ، ایران تنازع اور عالمی طاقتوں کے مفادات کے باعث فوری پیش رفت کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔







