چین کے اہم دورے سے قبل جاری کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں روسی صدر نے کہا کہ روس اور چین مختلف شعبوں میں اپنے تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم ہیں، جن میں سیاست، معیشت، دفاع، توانائی، ٹیکنالوجی اور عوامی روابط شامل ہیں۔
پیوٹن کے مطابق دونوں ممالک کے تعلقات کی بنیاد باہمی اعتماد، احترام، خودمختاری اور ایک دوسرے کے قومی مفادات کے احترام پر قائم ہے، جو اس شراکت داری کو دیگر بین الاقوامی تعلقات سے منفرد بناتا ہے۔
روسی صدر نے کہا کہ وہ چینی صدر شی جن پنگ کی دعوت پر بیجنگ کا دورہ کر رہے ہیں، جنہیں انہوں نے اپنا ’’پرانا اور قریبی دوست‘‘ قرار دیا، دونوں رہنماؤں کے درمیان مسلسل اعلیٰ سطح کے روابط روس اور چین کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
پیوٹن نے اس بات پر زور دیا کہ گزشتہ 25 برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والا ’’معاہدۂ ہمسائیگی اور دوستانہ تعاون‘‘ ایک مضبوط بنیاد فراہم کر چکا ہے، جس کے نتیجے میں ایک جامع اسٹریٹجک شراکت داری وجود میں آئی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ روس اور چین کے درمیان تجارتی حجم 200 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے جبکہ دونوں ممالک کی جانب سے باہمی تجارت میں مقامی کرنسیوں، یعنی روسی روبل اور چینی یوآن کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو عالمی مالیاتی نظام میں ایک اہم تبدیلی کی علامت ہے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش اور امریکا کے درمیان دفاعی تعاون بڑھانے پر پیشرفت، خطے میں نئی سفارتی بحث
روسی صدر نے حال ہی میں دونوں ممالک کے درمیان ویزا فری نظام کے آغاز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے نہ صرف سیاحت کو فروغ ملے گا بلکہ کاروباری مواقع اور عوامی سطح پر رابطوں میں بھی اضافہ ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ماسکو چین کی تاریخ، ثقافت اور تہذیب کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی و انسانی روابط کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔ پیوٹن کے مطابق یہ تعلقات مستقبل میں بھی ترقی اور تعاون کے نئے دروازے کھولتے رہیں گے۔







