رپورٹس کے مطابق روسی حکام نے شہریوں کو متبادل مقامی ایپ “میکس” (MAX) پر منتقل ہونے کا مشورہ دیا ہے، جو ریاست کی حمایت یافتہ میسجنگ سروس ہے، لیکن اس میں اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کا فیچر موجود نہیں۔
واٹس ایپ کی مالک امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا کا کہنا ہے کہ روس، صارفین کے محفوظ ڈیٹا تک رسائی نہ دینے پر واٹس ایپ پر پابندی لگانے کی کوشش کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں : مزید پڑھیں: جنوبی تھائی لینڈ میں ہولناک سیلاب، ہلاکتوں کی تعداد 145 تک پہنچ گئی
واضح رہے کہ روس میں ٹیلی گرام اور واٹس ایپ سب سے زیادہ مقبول میسجنگ سروسز ہیں، تاہم حکومت کا مطالبہ ہے کہ دہشتگردانہ سرگرمیوں اور فراڈ کی تحقیقات کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو صارفین کے ڈیٹا تک رسائی فراہم کی جائے۔
یہ پابندی روس کی جانب سے اگست میں واٹس ایپ کالز پر عائد کی گئی پابندی کا تسلسل بھی ہے، اور روسی صارفین کے لیے موجودہ حالات میں میکس ایپ پر منتقلی کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔







