عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق سماجی رابطے کی سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں زیلنسکی نے کہا کہ یہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف جان بوجھ کر کیا گیا حملہ تھا، جس میں ریکارڈ تعداد میں بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ روسی فوج نے امریکی تجویز کے عارضی جنگ بندی کے موقع کو ڈپلومیسی کے لیے نہیں بلکہ میزائل ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیا۔
زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین مذاکرات کاروں کا کام اس حملے کے بعد حالات کے مطابق ایڈجسٹ کیا جائے گا، لیکن مزید تفصیلات نہیں دیں۔ انہوں نے کیو میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ یوکرین واشنگٹن سے روس کے خلاف نئی نتائجی کارروائیوں پر بات کرے گا۔
واضح رہے کہ اس حملے کے نتیجے میں دارالحکومت کیو سمیت دیگر شہروں میں حرارت کی فراہمی متاثر ہوئی، جب کہ یوکرینی مذاکرات کار ابو ظہبی میں امریکی ثالثی میں ہونے والی سہ فریقی مذاکرات کی دوسری نشست کے لیے روانہ ہوئے۔
یوکرین پر امریکی دباؤ ہے کہ وہ امن معاہدے پر راضی ہو، جب کہ روس کے توانائی کے نظام پر حملے عام شہریوں کو شدید سردی میں دباؤ میں لانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
یوکرین کے حکام کے مطابق روس نے 450 ڈرونز اور 70 سے زائد میزائل داغے، جس سے کم از کم 12 افراد زخمی ہوئے اور اپارٹمنٹ بلاکس اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔ کیو میں 1,000 سے زائد اپارٹمنٹ بلڈنگز اور یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیو میں تقریباً 2,70,000 رہائشی بغیر حرارت کے رہ گئے۔
خارکیو کے میئر ایہور تیرخوف نے ٹیلی گرام پر لکھا کہ مقصد واضح ہے کہ زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا اور شدید سردی میں شہر کو بغیر حرارت کے چھوڑ دینا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا-انڈیا تجارتی مذاکرات کامیاب، ٹرمپ کا ٹیرف میں نمایاں کمی کا اعلان
روسی اور یوکرینی حکام نے گزشتہ ہفتے ایک دوسرے کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے کا اعلان کیا تھا، لیکن دونوں جانب اس معاہدے کی مدت پر اختلاف ہے۔ کریملن کا کہنا ہے کہ یہ 1 فروری کو ختم ہو گئی، جب کہ کیو کا کہنا تھا کہ یہ جمعہ تک جاری رہنی چاہیے۔
خیال رہے کہ یوکرین میں اس وقت شدید سردی کی نئی لہر ہے، جو گزشتہ چھ سال کی سب سے سرد جنوری قرار دی گئی۔ کئی خاندان بجلی اور حرارت کی بندش کی وجہ سے تاریکی اور سردی میں زندگی گزار رہے ہیں۔
یوکرین کی سربراہ مذاکرات کار نے بتایا کہ پہلے امریکی حکام کے ساتھ دو طرفہ بات چیت ہوگی تاکہ کسی بھی امن معاہدے کے لیے امریکی سکیورٹی ضمانتیں اور جنگ کے بعد کی تعمیر نو کے پیکج پر بات ہو اور بعد میں روسی مذاکرات کاروں کے ساتھ سہ فریقی اجلاس ہوگا۔
مذاکرات میں سب سے بڑا مسئلہ زمین کے تنازعے کا ہے، جہاں یوکرین روس کے مطالبے کے خلاف ہے کہ وہ ڈونٹسک کے مشرقی علاقے کے باقی 20 فیصد حصہ روس کو دے، جسے روس 2022 کی جارحیت کے باوجود قابو نہیں کر سکا۔
استنبول میں ہونے والے مذاکرات کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کی جانب اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جب کہ پاکستان کی ثالثی میں تعاون کو ایک مؤثر سفارتی کردار کے طور پر سراہا جا رہا ہے۔







