ایک بیان میں مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے کئی سفارتی امکانات کو متاثر کیا ہے اور ایسے ماحول میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کا تصور بھی حقیقت سے دور ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی دراصل اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جنگ ہے، نیتن یاہو نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قائل کیا تھا کہ وہ ایران کے معاملے پر ان کی پالیسی اور مؤقف کی مکمل حمایت کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام ممالک تحمل اور سفارتکاری کو ترجیح دیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فلسطین کا مسئلہ حل کیے بغیر خطے میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکتا۔
مزید پڑھیں: لبنان میں سفارتخانے پر حملہ ہوا تو دنیا بھر میں اسرائیلی سفارتخانے نشانہ ہوں گے، ایران
سابق سعودی انٹیلی جنس چیف نے مزید کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف سیاسی بلکہ معاشی اور سکیورٹی صورتحال کو بھی متاثر کر رہی ہے، اس لیے عالمی برادری کو فوری طور پر مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ حالات مزید خراب ہونے سے بچ سکیں۔
واضع رہے کہ سعودی عرب کی اہم شخصیات کی جانب سے اس طرح کے بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موجودہ حالات میں ریاض اور تل ابیب کے درمیان تعلقات کی بحالی کا عمل مزید مشکل ہوسکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث کئی علاقائی اور عالمی طاقتیں بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔







