سعودی وزارت دفاع کے مطابق جمعے کے روز ابتدائی پانچ گھنٹوں کے دوران کم از کم 20 ڈرونز کو ہدف بنا کر مار گرایا گیا، یہ ڈرونز مختلف حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے بھیجے گئے تھے تاہم بروقت کارروائی کے باعث کسی بڑے نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔
دوسری جانب خلیجی خطے کے دیگر ممالک بھی خطرے کی زد میں ہیں۔ کویت اور متحدہ عرب امارات کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ انہیں بھی میزائل اور ڈرون حملوں کے خدشات کا سامنا ہے اور دفاعی نظام کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
بحرین کی وزارت داخلہ کے مطابق ایک دھماکے کے نتیجے میں ایک گودام میں آگ بھڑک اٹھی جسے فوری کارروائی کرتے ہوئے قابو میں لے لیا گیا، واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم اسے ایرانی جارحیت کا شاخسانہ قرار دیا جا رہا ہے۔
سعودی وزارت دفاع نے بتایا کہ زیادہ تر ڈرونز ملک کے مشرقی صوبے میں تباہ کیے گئے جہاں اہم آئل ریفائنریز واقع ہیں، جبکہ ایک ڈرون شمالی صوبے الجوف میں بھی مار گرایا گیا۔ ماہرین کے مطابق ان علاقوں کو نشانہ بنانا خطے کی توانائی سپلائی کو متاثر کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔
یہ تازہ حملے بحیرہ احمر کے قریب ایک سعودی آئل ریفائنری پر ہونے والے ڈرون حملے کے ایک روز بعد سامنے آئے ہیں، جس کے بعد خطے میں سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ اسی دوران کویت میں بھی ایک حملے کے بعد دو مختلف تنصیبات میں آگ لگنے کی اطلاعات ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے خلیجی ممالک کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی مہم جاری ہے، جسے خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: نیٹو اتحاد نے آبنائے ہرمز کو کھولنے میں امریکا کا ساتھ نہیں دیا، ڈونلڈ ٹرمپ
یاد رہے کہ اس سے قبل بدھ کے روز قطر کے بڑے گیس مرکز راس لفان پر بھی حملہ کیا گیا تھا، جسے دنیا کے سب سے بڑے قدرتی گیس مراکز میں شمار کیا جاتا ہے اور اس حملے سے نمایاں نقصان رپورٹ ہوا تھا۔
ایران کی جانب سے یہ کارروائیاں اس کے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر اسرائیل کے حملے کے ردعمل میں کی جا رہی ہیں، جس کے بعد دونوں جانب کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
سعودی حکام کے اعداد و شمار کے مطابق 28 فروری سے اب تک مملکت پر کیے گئے حملوں کی مجموعی تعداد 500 سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان حملوں میں درجنوں بیلسٹک اور کروز میزائلز بھی شامل ہیں جنہیں بروقت دفاعی کارروائی کے ذریعے ناکام بنایا گیا۔
واضع رہے کہ یہ صورتحال نہ صرف خلیجی خطے بلکہ عالمی توانائی منڈی کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ ان حملوں کا رخ براہِ راست تیل اور گیس کی اہم تنصیبات کی طرف ہے۔







