سوشل میڈیاپر جاری اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ دورۂ چین کے منتظر ہیں اور شی جن پنگ سے ملاقات کو انتہائی اہم سمجھتے ہیں، چین کو ایک عظیم ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر شی دنیا بھر میں بااثر اور قابل احترام رہنما مانے جاتے ہیں۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ان کے اور چینی صدر کے درمیان تعلقات خوشگوار ہیں جبکہ امریکا اب چین کے ساتھ تجارتی معاملات میں پہلے کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں ہے۔
وائٹ ہاؤس حکام کے مطابق ٹرمپ کے اس دورے میں امریکا کی بڑی ٹیکنالوجی، مالیاتی، دفاعی، ہوابازی اور مینوفیکچرنگ کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداران بھی شریک ہوں گے۔
چینی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ 13 سے 15 مئی تک چین میں قیام کریں گے جہاں دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، ٹیرف، ایران، تائیوان، مصنوعی ذہانت اور اہم معدنیات سمیت مختلف عالمی معاملات پر تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔
مزید پڑھیں: امریکی صدر نے ایرانی قیادت کو بے ایمان قرار دے دیا: ’بار بار اپنا ذہن تبدیل کر لیتے ہیں۔‘
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں دوطرفہ تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے، معاشی و قومی سلامتی کے امور اور سرمایہ کاری سے متعلق تعاون پر بھی غور کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ زراعت، توانائی اور ہوابازی کے شعبوں میں اشتراک بڑھانے کے امکانات بھی زیر بحث آئیں گے۔
دورے کے شیڈول کے مطابق ٹرمپ کا سرکاری استقبال کیا جائے گا جبکہ وہ بیجنگ میں مختلف سرکاری تقریبات میں بھی شرکت کریں گے۔







