یہ نیا عالمی اقدام، جو سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر متعارف کرایا گیا، جنگ سے متاثرہ غزہ کی تعمیرِ نو اور عبوری حکومتی نظام کی نگرانی کے لیے بنایا گیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق اس بورڈ میں دنیا کے بااثر ترین ممالک اور رہنماؤں کو شامل کیا جائے گا۔ اب تک تقریباً 35 ممالک نے اس بورڈ میں شمولیت کی تصدیق کی ہے، تاہم کینیڈا نے کسی حتمی موقف کا اعلان نہیں کیا تھا۔
کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی اس افتتاحی تقریب میں شریک نہیں ہوئے تھے اور اس دوران وہ کیوبک سٹی میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں موجود تھے۔ اس پیش رفت کے بعد ٹرمپ نے واضح کیا کہ کینیڈا کے لیے بورڈ میں شمولیت کی دعوت واپس لے لی گئی ہے۔
بورڈ آف پیس میں اسرائیل، ترکی، مصر، سعودی عرب اور قطر جیسے مشرقِ وسطیٰ کے اہم ممالک شامل ہیں، جبکہ برطانیہ اور فرانس جیسے روایتی یورپی اتحادیوں نے اس منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔ فرانس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بورڈ کے بعض نکات اقوام متحدہ کے چارٹر سے متصادم ہو سکتے ہیں۔ انسانی حقوق کے ماہرین نے بھی کسی ایک ملک کی نگرانی میں غیر ملکی خطے کے انتظام پر سوالات اٹھائے ہیں۔
اس منصوبے میں مستقل رکنیت کے لیے ایک ارب امریکی ڈالر فیس مقرر کی گئی ہے، جس کے حوالے سے کینیڈا کے وزیرِخزانہ فرانسوا فلپ شیمپین نے پہلے ہی واضح کیا تھا کہ اگر کینیڈا اس بورڈ میں شامل بھی ہوتا ہے تو وہ یہ فیس ادا نہیں کرے گا۔
ڈیووس میں ٹرمپ اور کارنی کی تقریروں کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا۔ مارک کارنی نے اپنی تقریر میں کہا کہ بڑی طاقتیں، خاص طور پر امریکا، معاشی تعلقات کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں اور دوطرفہ مذاکرات درمیانی طاقتوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ اس کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ کینیڈا امریکا کا شکر گزار ہونا چاہیے اور یہ کہ کینیڈا امریکا کی وجہ سے زندہ ہے۔
بعد ازاں کیوبک سٹی میں خطاب کرتے ہوئے مارک کارنی نے ٹرمپ کے بیان کو سختی سے مسترد کیا اور کہا کہ کینیڈا امریکا کے تعاون سے نہیں بلکہ اپنی خود مختاری اور محنت کی بنیاد پر ترقی کرتا ہے۔ اس لفظی جنگ کا آغاز ایسے وقت ہوا ہے جب کینیڈا، امریکا اور میکسیکو کے درمیان تجارتی معاہدے CUSMA پر نظرثانی کی تیاریاں جاری ہیں، اور دونوں ممالک کے تعلقات میں نرمی کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس قسم کے بیانات اور عالمی اقدامات نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو متاثر کر سکتے ہیں بلکہ خطے میں سیاسی اور اقتصادی توازن پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔