نیویارک کی وفاقی عدالت کی جج جینیٹ ورگاس نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے یہ پالیسی جاری کرنا قانونی اختیار سے تجاوز تھا اور پالیسی واضح طور پر قانون کے خلاف تھی۔

عدالت کے مطابق کسی درخواست گزار کے ملک یا قومیت کی بنیاد پر امیگریشن ویزے کے اجرا پر مکمل پابندی عائد نہیں کی جاسکتی، جب کہ امریکی قانون قونصلر افسران کو ویزا درخواستوں پر انفرادی طور پر فیصلہ کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

یہ پالیسی رواں سال جنوری میں نافذ کی گئی تھی، جس کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش، برازیل، کولمبیا، یوراگوئے، بوسنیا، البانیہ سمیت ایشیا، افریقہ، مشرق وسطیٰ، لاطینی امریکا اور کیریبین کے متعدد ممالک کے شہریوں کے امیگریشن ویزوں کا اجرا روک دیا گیا تھا۔

امریکی محکمہ خارجہ کا مؤقف تھا کہ ان ممالک سے آنے والے درخواست گزاروں میں امریکی حکومت پر مالی بوجھ بننے اور سرکاری فلاحی سہولیات پر انحصار کرنے کا خطرہ زیادہ ہے۔

جج جینیٹ ورگاس نے قرار دیا کہ کسی درخواست گزار کو صرف اس کی قومیت کی بنیاد پر ’پبلک چارج‘ قرار دے کر ویزا مسترد نہیں کیا جاسکتا۔

امریکی قانون کے تحت کسی فرد کے مالی وسائل، عمر، صحت، مہارت اور خاندانی حالات سمیت دیگر عوامل کا انفرادی جائزہ لینا ضروری ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ محکمہ خارجہ کی ہدایات کے تحت ایسے درخواست گزاروں کے ویزے بھی مسترد کیے جارہے تھے جو اپنی مالی استطاعت ثابت کر سکتے تھے، صرف اس لیے کہ ان کا تعلق مخصوص ممالک سے تھا۔

مزید پڑھیں: امریکا سے تجارتی جنگ؛ کینیڈا کا ’ڈالر کے بدلے ڈالر‘ جوابی ٹیرف کا اعلان

واضح رہے کہ فیصلے کے نتیجے میں وہ ویزا انکار ختم ہوجائیں گے جو صرف مذکورہ پالیسی کی بنیاد پر کیے گئے تھے، تاہم دیگر قانونی وجوہات کی بنیاد پر مسترد کیے گئے ویزے برقرار رہیں گے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1965 کے امریکی قانون کے تحت قومیت کی بنیاد پر ویزا جاری کرنے میں امتیاز کی اجازت نہیں، جب کہ وزیر خارجہ کو قونصلر افسران کے انفرادی ویزا فیصلوں میں اس نوعیت کی مداخلت کا اختیار بھی حاصل نہیں۔

عدالت نے فریقین کو 11 ستمبر تک کیس کے آئندہ طریقہ کار سے متعلق تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی ہے، جب کہ امریکی حکومت فیصلے کے خلاف اپیل بھی کرسکتی ہے۔