امریکی ڈسٹرکٹ جج جینیٹ ورگاس نے قرار دیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جنوری میں نافذ کی گئی امیگرنٹ ویزا پالیسی امریکی قانون سے متصادم ہے اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اپنے قانونی اختیارات سے تجاوز کر گئے تھے۔
عدالت کے فیصلے کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے 75 ممالک کے شہریوں کے امیگرنٹ ویزا روکنے کی پالیسی نے قومیت کی بنیاد پر ویزا جاری کرنے کے قانونی نظام کو متاثر کیا، جسے عدالت نے غیر قانونی قرار دیا۔
پاکستان کے علاوہ اس پالیسی سے متاثر ہونے والے ممالک میں بنگلادیش، ایران، روس اور دنیا کے مختلف خطوں کے متعدد دیگر ممالک شامل تھے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے جنوری 2026 میں ان ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزا جاری کرنے کا عمل معطل کیا تھا۔
امریکی حکومت کی جانب سے اس پالیسی کے لیے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ متعلقہ ممالک سے آنے والے بعض تارکین وطن کے امریکی حکومت کے مالی وسائل پر انحصار کرنے کا خطرہ موجود ہے، جسے پبلک چارج کا خدشہ قرار دیا گیا تھا۔
محکمہ خارجہ کے مطابق پالیسی کا مقصد امیگرنٹ ویزا کے درخواست گزاروں کی مالی خود کفالت اور امریکا میں داخلے کے بعد ممکنہ سرکاری معاونت پر انحصار کا جائزہ لینا تھا۔ پالیسی کے تحت متاثرہ ممالک کے شہریوں کے امیگرنٹ ویزا جاری کرنے کا عمل 21 جنوری 2026 سے روک دیا گیا تھا۔
تاہم امیگرنٹس کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور متاثرہ ویزا درخواست گزاروں نے امریکی عدالت سے رجوع کیا۔ مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ کسی شخص کی قومیت کی بنیاد پر امیگرنٹ ویزا کی کارروائی روکنا امریکی امیگریشن قانون کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
مین ہیٹن کی وفاقی عدالت میں مقدمے کی سماعت کے بعد جج جینیٹ ورگاس نے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ وزیر خارجہ کو اس انداز میں امیگرنٹ ویزا کے اجرا پر جامع پابندی عائد کرنے کا قانونی اختیار حاصل نہیں تھا۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ امریکی وفاقی امیگریشن قانون قونصلر افسران کے ذریعے ویزا کارروائی کے لیے ایک مخصوص قانونی طریقہ کار فراہم کرتا ہے، جسے انتظامی پالیسی کے ذریعے اس طرح محدود نہیں کیا جاسکتا۔
عدالتی فیصلے کے بعد پاکستان سمیت متاثرہ ممالک کے شہریوں کے امیگرنٹ ویزا کیسز کے حوالے سے صورتحال میں اہم تبدیلی متوقع ہے۔ تاہم عملی طور پر ویزا کارروائی دوبارہ کس طریقہ کار اور ٹائم لائن کے تحت شروع ہوگی، اس حوالے سے امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے مزید ہدایات سامنے آنا باقی ہیں۔
واضح رہے کہ یہ معاملہ امیگرنٹ ویزا سے متعلق تھا، یعنی مستقل طور پر امریکا منتقل ہونے کے لیے جاری کیے جانے والے ویزا۔ جنوری میں نافذ کی گئی معطلی عام طور پر سیاحتی، کاروباری یا دیگر نان امیگرنٹ ویزا کیٹیگریز کے لیے نہیں تھی۔
عدالتی فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسیوں پر امریکا میں قانونی اور سیاسی سطح پر بحث جاری ہے۔ تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزا معطلی کو چیلنج کرتے ہوئے اسے قومیت کی بنیاد پر قانونی امیگریشن محدود کرنے کے مترادف قرار دیا تھا۔
دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے عدالتی فیصلے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
یوں پاکستان سمیت 75 ممالک کے شہریوں کے امیگرنٹ ویزا سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کی جنوری میں نافذ کی گئی پالیسی کو امریکی عدالت کی جانب سے کالعدم قرار دیا جانا قانونی امیگریشن کے حوالے سے ایک اہم عدالتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔







