غیرملکی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق یہ کارروائیاں 13 دسمبر کو شام میں داعش کے ایک حملے میں دو امریکی فوجیوں اور ایک مقامی مترجم کی ہلاکت کے بعد شروع کی گئیں، جس کے چند روز بعد امریکی افواج نے شدت پسند تنظیم کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے تھے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ 20 سے 29 دسمبر کے دوران 11 مختلف مشنز میں کم از کم 7 داعش جنگجو مارے گئے، جب کہ باقی کو گرفتار کیا گیا۔ ان کارروائیوں کے دوران داعش کے چار اسلحہ ذخائر بھی تباہ کر دیے گئے۔ تاہم ہلاک یا گرفتار افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

امریکی فوج کے مطابق داعش کے خلاف جنگ کے دوران ایک وقت میں شام میں 2 ہزار تک امریکی فوجی تعینات تھے، تاہم اس وقت یہ تعداد تقریباً ایک ہزار ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ رواں سال شام میں امریکی اڈوں اور فوجیوں کی تعداد مزید کم کرنے کا اعلان بھی کر چکی ہے۔

داعش نے 2014 سے 2019 کے دوران شام اور عراق کے وسیع علاقوں پر قبضہ کیے رکھا، تاہم علاقائی شکست کے باوجود امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تنظیم کے باقی ماندہ عناصر اب بھی خطے کے لیے خطرہ ہیں۔

سینٹ کام کے مطابق 19 دسمبر کو ابتدائی حملوں میں 70 اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن کے لیے 100 سے زائد درست نشانہ لگانے والے ہتھیار استعمال کیے گئے۔ ان حملوں میں درجنوں لڑاکا طیاروں، ہیلی کاپٹروں اور توپ خانے نے حصہ لیا، جب کہ کارروائیاں اردن کی فورسز کے ساتھ رابطے میں انجام دی گئیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل بریڈ کوپر نے کہا ہے کہ امریکا داعش کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا، دہشت گرد نیٹ ورکس کا خاتمہ اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر داعش کی دوبارہ واپسی کو روکنا امریکا، خطے اور دنیا کو محفوظ بناتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یمن کا دفاعی معاہدہ منسوخ کرتے ہوئے اماراتی فوج کو 24 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم، اصل تنازع کیا ہے؟

واضح رہے کہ شام میں سلامتی کے دیگر مسائل بھی موجود ہیں، جہاں حکومتی افواج اور کرد اکثریتی شامی ڈیموکریٹک فورسز کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں ہو رہی ہیں، جب کہ جنوبی شام میں اسرائیلی کارروائیوں پر دمشق حکومت نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں اسرائیلی وزیر اعظم سے گفتگو میں کہا کہ شام کے ساتھ معاملات افہام و تفہیم سے حل ہونے چاہئیں اور نئے شامی صدر کو ایک مضبوط رہنما قرار دیا۔