ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں جارجیا، امریکا، فلسطین (غزہ)، پیرو، ہانگ کانگ، یوکرین اور ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والے صحافی شامل ہیں۔ ان میں سے دو خواتین صحافی دورانِ رپورٹنگ جان کی بازی ہار گئیں، جب کہ دو دیگر صحافی اب بھی جیل میں قید ہیں۔

آئی پی آئی (انٹرنیشنل پریس انسٹیٹیوٹ) اور انٹرنیشنل میڈیا سپورٹ (آئی ایم ایس) کی جانب سے دیا جانے والا یہ ایوارڈ اُن صحافیوں کے اعزاز میں ہے جنہوں نے آزادیٔ صحافت کے لیے غیر معمولی ہمت، ثابت قدمی اور قربانی کا مظاہرہ کیا۔

ایوارڈ حاصل کرنے والے صحافیوں میں مزیا اماگلوبیلی (جارجیا)، مارٹن بیرون (امریکا)، مریم ابو دغہ (فلسطین، بعد از وفات ایوارڈ)، گستاوا گوریتی (پیرو)، جمی لائی (ہانگ کانگ)، ویکٹوریا رُوشچِنا (یوکرین، بعد از وفات ایوارڈ) اور تسفالم والدیس (ایتھوپیا) شامل ہیں۔

واضح رہے کہ آزادیٔ صحافت کی علامت سمجھی جانے والی مزیا اس وقت قید میں ہیں، ان کی جدوجہد نے جارجیا کے نوجوان صحافیوں کو متاثر کیا۔ مارٹن بیرون واشنگٹن پوسٹ اور بوسٹن گلوب کے سابق ایڈیٹر ہیں، جن کی قیادت میں 18 پلٹزر انعامات جیتے گئے۔

مریم ابو دغہ غزہ کی فوٹو جرنلسٹ تھیں، جو اسرائیلی حملے میں اسپتال کے قریب رپورٹنگ کے دوران شہید ہوئیں۔ گستاوا گوریتی معروف تحقیقی صحافی ہیں، جنہوں نے طاقتور حلقوں میں بدعنوانی کو بے نقاب کیا، خود بھی کئی بار انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنے۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم مودی کو بتا دیا کہ پاکستان کے ساتھ کوئی جنگ نہیں ہونی چاہیے، امریکی صدر

جمی لائی جمہوریت کے علمبردار اور ایپل ڈیلی کے بانی ہیں، جو پانچ سال سے جیل میں ہیں۔ ویکٹوریا رُوشچِناروسی قبضے والے علاقوں میں جنگی جرائم کی تحقیقات کے دوران روسی حراست میں ہلاک ہوئیں۔ تسفالم والدیس Ethiopia Insider کے بانی و ایڈیٹر ہیں، جو کئی بار گرفتار اور جلاوطن ہوئے مگر آزاد صحافت کا مشن جاری رکھا۔

آئی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اسکاٹ گرفن کا کہنا تھا کہ یہ صحافی آزادیٔ اظہار کے دفاع میں عظیم قربانیاں دے چکے ہیں۔ کچھ نے اپنی جانیں قربان کیں تاکہ سچ دنیا تک پہنچ سکے۔

آئی ایم ایس کے ڈائریکٹر جیسپر ہوئبرگ نے کہا کہ ان بہادر صحافیوں نے کرپشن، جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی پامالیوں کو بے نقاب کیا، ان کی جرات کو سلام۔

خیال رہے کہ ایوارڈ تقریب ویانا یونیورسٹی میں آئی پی آئی ورلڈ کانگریس اور میڈیا انویشن فیسٹیول کے دوران منعقد ہوئی۔ آئی پی آئی کے 75 سال مکمل ہونے پر اس سال کا ایوارڈ آزادیٔ صحافت کے لیے ان بہادر آوازوں کے نام کیا گیا جنہوں نے سچائی کے لیے اپنی جان، عزت اور آزادی قربان کر دی۔