عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ کےمطابق آر ایس ایف کا کہناتھا کہ تین روز تک فوجی ڈرونز اور جنگی طیاروں نے نیالا میں تنظیم کے اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جن میں بین الاقوامی ہوائی اڈہ، عسکری تنصیبات اور تربیتی مراکز شامل ہیں۔

ایندھن مارکیٹ پر حملے کے بعد ایندھن کے ڈرم پھٹنے سے شدید آگ لگ گئی اور سیاہ دھوئیں کے بادل فضا میں بلند ہوتے دکھائی دیے، جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔

جنوبی دارفور میں آر ایس ایف کی سول انتظامیہ کے سربراہ یوسف ادریس یوسف نے الزام عائد کیا کہ سوڈانی فوج نے دانستہ طور پر شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔ یہ دارفور کے عوام کو سزا دینے کی منظم پالیسی کا حصہ ہے، کیونکہ مقامی آبادی نے آر ایس ایف کے خلاف مزاحمت نہیں کی۔

سوڈانی فوج کی جانب سے تاحال حملوں سے متعلق کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق حملے میں شہریوں اور ایندھن کے کاروبار سے وابستہ آر ایس ایف کے ارکان ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔

واقعے کے بعد آر ایس ایف کی انٹیلی جنس نے نیالا کی مرکزی مارکیٹ اور حملے کی جگہ کے قریب بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کیں۔ شہریوں اور فوجی اہلکاروں کو اس الزام میں حراست میں لیا گیا کہ انہوں نے فوج کو اہداف کے کوآرڈینیٹس فراہم کیے۔

نیالا کو اس لیے بھی خاص اہمیت حاصل ہے کہ یہ آر ایس ایف کی متوازی حکومت ’’تاسیس‘‘ کا مرکز ہے، جس کا اعلان تنظیم نے جولائی میں کیا تھا۔ آر ایس ایف کے سربراہ محمد حمدان دقلو المعروف حمیدتی کی قیادت میں قائم اس انتظامیہ کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے، تاہم دارفور کے بڑے حصے پر اس کا کنٹرول برقرار ہے۔

واضح رہے کہ اکتوبر میں بھی سوڈانی فوج نے نیالا اور اس کے ہوائی اڈے پر حملے کیے تھے، جسے آر ایس ایف اپنی لاجسٹک سپلائی کے لیے استعمال کرتی ہے۔ دارفور میں جھڑپیں اس وقت مزید شدت اختیار کر گئیں جب آر ایس ایف نے الفاشر پر قبضہ کیا، جہاں انسانی حقوق کی تنظیموں نے سنگین مظالم کی دستاویزات بھی جاری کی ہیں۔ امریکا پہلے ہی دارفور میں آر ایس ایف پر نسل کشی کے الزامات عائد کر چکا ہے۔

ادھر آر ایس ایف نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے شمالی دارفور کے علاقے ابو قمرا پر قبضہ کر لیا ہے اور ام برو کی جانب پیش قدمی جاری ہے، تاہم فوج کی اتحادی فورسز نے ان دعوؤں کی تردید کی ہے۔

لازمی پڑھیں: تائیوان میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ، اپوزیشن کا صدر اور وزیرِاعظم کے خلاف مواخذے کا آغاز

خیال رہے کہ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب سوڈان کے وزیراعظم کامل ادریس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امن منصوبہ پیش کیا، جس میں آر ایس ایف کے زیر قبضہ علاقوں سے انخلا، اسلحہ جمع کرانے اور انتخابات کی تجویز دی گئی۔ آر ایس ایف نے اس منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے اسے محض خوش فہمی قرار دیا ہے۔

سوڈان میں اپریل 2023 سے جاری جنگ میں اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک اور تقریباً ایک کروڑ چالیس لاکھ بے گھر ہو چکے ہیں، جب کہ اقوام متحدہ نے اسے دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔