راشا نامی خاتون جو ایک بے گھر ماں ہے، اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے لکڑیاں کاٹنے کا کام کر رہی ہے، نے الجزیرہ عربی کو بتایا کہ اس نے معاشرتی حد بندیاں توڑ دیں کیونکہ اب کوئی اور راستہ باقی نہیں رہا۔ لکڑی کاٹنا بہت مشکل کام ہے، مگر اب کلہاڑی میرے ہاتھ کا حصہ بن چکی ہے۔ ہمارے پاس کوئی اور انتخاب نہیں رہا۔

راشا اکیلی نہیں۔ جنگ کے باعث ہزاروں خواتین اپنے خاندان کی واحد کفیل بن چکی ہیں اور سخت موسمی حالات میں انتہائی مشقت کے باوجود دن بھر کی کمائی بعض اوقات صرف بسکٹ کا ایک پیکٹ خریدنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ وہ یہ رقم خوراک اور صابن پر خرچ کرتی ہیں۔

صاف رہنے کے لیے صابن چاہیے، کپڑوں کی امید تو ہم کب کی چھوڑ چکے ہیں۔

تقریباً تین سال سے جاری سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جنگ نے ملک کو شدید انسانی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی امور (OCHA) کے مطابق 4 کروڑ 68 لاکھ آبادی میں سے 3 کروڑ سے زائد افراد کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے۔

خوراک کی شدید قلت اور غذائی بحران نے خاص طور پر مغربی اور وسطی سوڈان کے علاقوں دارفور اور کردفان کو بری طرح متاثر کیا ہے، جبکہ مختلف بیماریوں کے پھیلاؤ نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

سوڈان اس وقت دنیا کے سب سے بڑے بے گھری کے بحران کا سامنا کر رہا ہے، جہاں لڑائی کے باعث ایک کروڑ 36 لاکھ افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں۔

جنگ نے تعلیم کے شعبے کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ سیو دی چلڈرن کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق سوڈان اس وقت دنیا میں اسکولوں کی طویل ترین بندش کا شکار ہے، جو حتیٰ کہ کورونا وبا کے دوران ہونے والی بندش سے بھی زیادہ طویل ہے۔

رپورٹ کے مطابق اپریل 2023 میں جنگ کے آغاز سے اب تک 80 لاکھ سے زائد بچے، جو کہ اسکول جانے کی عمر کے تقریباً نصف ہیں، 484 دن کی تعلیم سے محروم ہو چکے ہیں۔ یہ دورانیہ فلپائن میں کورونا کے دوران اسکول بند رہنے کی مدت سے بھی 10 فیصد زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں: افغانستان کو 2026 میں ایک بڑے معاشی بحران کا سامنا ہوگا، اقوامِ متحدہ

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سوڈان میں آن لائن یا متبادل تعلیم کی سہولت نہ ہونے کے باعث بچے مسلح گروہوں میں شمولیت اور جنسی استحصال کے خطرات سے دوچار ہیں۔

تنازعہ زدہ علاقوں میں تعلیمی نظام تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ شمالی دارفور میں 1100 سے زائد اسکولوں میں سے صرف 3 فیصد فعال ہیں، جب کہ جنوبی دارفور میں 13 فیصد اور مغربی کردفان میں محض 15 فیصد اسکول کھلے ہیں۔

کئی اساتذہ کو مہینوں سے تنخواہیں نہیں ملیں، جس کے باعث وہ تدریس چھوڑنے پر مجبور ہو گئے، جب کہ متعدد اسکول بمباری سے تباہ یا پناہ گزینوں کی رہائش گاہوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ ادھر غذائی قلت بھی قحط کی صورت اختیار کر رہی ہے۔

OCHA کے مطابق شمالی دارفور میں کم از کم 2 ہزار خاندان شدید لڑائی کے باعث امداد سے محروم ہیں، جب کہ جنوبی کردفان کے محصور شہر کدوگلی میں قحط جیسی صورتحال کی تصدیق ہو چکی ہے۔

اقوام متحدہ نے رواں سال سوڈان کے لیے 2.9 ارب ڈالر کی انسانی امداد کی اپیل کر رکھی ہے، تاہم امدادی خلا بدستور برقرار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: منیاپولس میں وفاقی امیگریشن ایجنٹس کے ہاتھوں ایک اور امریکی شہری ہلاک، ملک بھر میں شدید احتجاج

الجزیرہ عربی کے نمائندے طاہر الماردی کے مطابق یہ جنگ کسی میں فرق نہیں کرتی، نہ بچے میں، نہ عورت میں اور نہ بزرگ میں۔ یہاں سب برابر کی تکلیف میں ہیں۔

راشا اور اس جیسی ہزاروں ماؤں کے لیے انتخاب نہایت کڑا ہے: یا تو روایات توڑ کر انتہائی مشقت کریں، یا پھر بھوک کے آگے ہتھیار ڈال دیں۔