واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز میں دیگر ممالک کی شمولیت کا خیرمقدم کرے گا تاکہ اس اہم بحری راستے کی نگرانی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے دعویٰ کیا کہ امریکا ایران کی تمام عسکری نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہے، ہم انہیں دیکھ رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکا نے پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ اپنی فوجی تیاری مکمل کر لی ہے، جب کہ ایران کی توانائی کی صنعت مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئی، تاہم امریکی ناکہ بندی کے باعث اس کی برآمدات شدید متاثر ہو رہی ہیں۔
پیٹ ہیگستھ نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای زخمی ہیں، تاہم اس حوالے سے کوئی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران امریکی فوج کے اعلیٰ جنرل ڈین کین نے کہا کہ امریکا کسی بھی ایسے جہاز کے خلاف کارروائی کرے گا جو ایران کی مدد کرنے کی کوشش کرے گا، چاہے وہ ڈارک فلیٹ کے تحت تیل لے جانے والے جہاز ہی کیوں نہ ہوں۔
مزید پڑھیں: 34 سال بعد لبنانی-اسرائیلی رہنما جمعرات کو مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ
انہوں نے کہا کہ یہ ناکہ بندی ایران کی بندرگاہوں کی جانب آنے اور جانے والے تمام جہازوں پر لاگو ہوگی اور اگر کسی نے اس کی خلاف ورزی کی تو طاقت کا استعمال کیا جائے گا۔
ڈین کین نے کہا کہ اب تک 13 جہاز اس صورتحال کے باعث اپنا راستہ بدل چکے ہیں، تاہم امریکی فوج نے ابھی تک کسی جہاز پر چڑھائی نہیں کی۔
خیال رہے کہ امریکی حکام نے بارہا یہ دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک پر اب امریکی بحریہ کا مکمل کنٹرول ہے، جب کہ ایران کی بحری صلاحیت کو کمزور قرار دیا جا رہا ہے۔







