ایرانی میڈیا کے مطابق مظاہرین بڑی تعداد میں انقلاب اسکوائر کے قریب جمع تھے جہاں وہ نئے سپریم لیڈر کے حق میں نعرے لگا رہے تھے اور ملکی قیادت سے یکجہتی کا اظہار کر رہے تھے۔ اسی دوران علاقے میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں جس سے وہاں موجود افراد میں کچھ دیر کے لیے خوف و ہراس پھیل گیا۔

ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق یہ دھماکے اس وقت ہوئے جب ریلی براہِ راست نشر کی جا رہی تھی۔ نشریات میں دھماکوں کی آوازیں واضح طور پر سنائی دیں جبکہ کیمرے میں مظاہرین کو قومی پرچم لہراتے اور نعرے لگاتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹس کے مطابق دھماکوں کے باوجود مظاہرین منتشر ہونے کے بجائے ریلی میں موجود رہے اور انہوں نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ملک اور قیادت کے ساتھ کھڑے ہیں اور کسی بھی دباؤ کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں۔

ایرانی حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب کے بعد ملک بھر میں بڑے پیمانے پر اجتماعات اور ریلیاں نکالی جا رہی ہیں جن میں عوام اپنی قیادت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث ایران میں سکیورٹی صورتحال انتہائی حساس ہو گئی ہے اور ایسے واقعات سے حالات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں،اگر اس طرح کے واقعات میں اضافہ ہوا تو اس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ کی سلامتی اور سیاسی صورتحال پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ایران کے گیارہویں روز بھی جوابی حملے جاری: ایران کے اندر حملوں کا شدید دن ہوگا، امریکا

ایرانی حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اہم مقامات پر سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ ایران میں جاری ریلیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ملک کے اندر سیاسی اور عسکری صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور آنے والے دنوں میں خطے کی صورتحال مزید اہم رخ اختیار کر سکتی ہے۔