عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق حکام نے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی تھی، جب کہ اپوزیشن اور سماجی کارکنوں نے 29 اکتوبر کے انتخابات میں حکمراں جماعت کی فتح کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ انتخابی نتائج کے خلاف نکالی گئی ریلیوں پر کریک ڈاؤن کے دوران سیکڑوں افراد ہلاک اور دو ہزار سے زائد گرفتار ہوئے تھے۔
منگل کے روز دارالسلام، دودوما اور اَروشا میں پولیس ٹرک، پیدل گشت اور اہم سرکاری دفاتر کے قریب ناکے واضح طور پر نظر آئے، جس میں صدر سامعہ سُلوحو حسن کے سخت حفاظتی انتظامات بھی شامل تھے۔
اگرچہ صورتحال مجموعی طور پر پرسکون رہی، تاہم ایک شہری اور کچھ کارکنوں نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ شہر کے کچھ حصوں میں چھوٹے مظاہرے شروع ہو چکے ہیں، جس کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
صدر حسن نے 29 اکتوبر کے انتخابات میں 98 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے، جب کہ اہم اپوزیشن رہنماؤں کو الیکشن سے پہلے ہی نااہل کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے گزشتہ ماہ انتخابی تشدد کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن قائم کیا، لیکن سکیورٹی فورسز کی ’ضرورت سے زیادہ طاقت‘ کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ماہرین کے مطابق انتخابی تشدد میں کم از کم 700 افراد ماورائے عدالت قتل کیے گئے، جب کہ حکومت نے ہلاکتوں کی تعداد تسلیم تو کی ہے مگر سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکی صدر کے طور پرآے آئی کے لیے ون رول بک ایگزیکٹو آرڈر جاری کرنے کا اعلان
امریکا نے بھی گزشتہ ہفتے تنزانیہ سے اپنے تعلقات پر نظرثانی کا اعلان کیا تھا، جس کی وجہ شہریوں کے خلاف تشدد، مذہبی آزادی، اظہارِ رائے پر قدغن اور سرمایہ کاری میں رکاوٹیں بتائی گئی ہیں۔
الیکشن سے قبل کے مہینوں میں اپوزیشن رہنماؤں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے حکومت پر اپنے ناقدین کو اغوا کرنے کے الزامات بھی عائد کیے تھے۔ صدر حسن نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے اس حوالے سے تحقیقات کا حکم دیا ہے، تاہم ان تحقیقات کی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آ سکی۔







