امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی درخواست پر ایران کے خلاف منگل کو متوقع فوجی کارروائی عارضی طور پر ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کے لیے بہترین موقع موجود ہے، جس کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھی مثبت رجحان دیکھنے میں آیا۔
یاد رہے کہ عالمی سیاست میں کسی بھی بڑی تبدیلی کے اثرات براہِ راست پاکستان سمیت ابھرتی ہوئی معیشتوں کی مارکیٹس پر مرتب ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی سے متعلق ہر پیشرفت کو انتہائی اہمیت دے رہے ہیں۔
کاروباری ہفتے کے دوسرے روز پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان غالب رہا اور ٹریڈنگ کے دوران بینچ مارک 100 انڈیکس میں 2 ہزار سے زائد پوائنٹس کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کاروبار کے دوران انڈیکس 2248 پوائنٹس بڑھنے کے بعد ایک لاکھ 64 ہزار 53 پوائنٹس کی سطح تک جا پہنچا، جسے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بحالی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی تناؤ میں کمی کی خبروں نے سرمایہ کاروں کے خدشات کم کیے، جس کے نتیجے میں پاکستان سمیت خطے کی اسٹاک مارکیٹوں میں مثبت ردِعمل دیکھنے میں آیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال مزید مستحکم رہتی ہے تو پاکستانی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کا رجحان مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔
اسٹاک بروکرز کے مطابق بینکنگ، توانائی، سیمنٹ، ٹیکنالوجی اور آئل اینڈ گیس سیکٹر میں نمایاں خریداری دیکھی گئی، جبکہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں نے بھی مارکیٹ میں دلچسپی ظاہر کی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار عالمی سیاسی حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی مثبت پیشرفت کا براہِ راست اثر مالیاتی منڈیوں پر پڑ رہا ہے۔
مزہد پڑھیں: خلیجی اتحادی ممالک کی درخواست پر ایران پر فوجی حملے کو مؤخر کر دیا ہے، صدر ٹرمپ
دوسری جانب انٹربینک مارکیٹ میں پاکستانی روپے کی قدر میں بھی معمولی بہتری دیکھی گئی۔ کاروبار کے دوران امریکی ڈالر 3 پیسے سستا ہوکر 278 روپے 57 پیسے پر ٹریڈ کرتا رہا، جبکہ گزشتہ کاروباری روز ڈالر 278 روپے 60 پیسے پر بند ہوا تھا۔
معاشی حلقوں کے مطابق ڈالر کی قیمت میں استحکام اور اسٹاک مارکیٹ میں تیزی اس بات کی نشاندہی ہے کہ سرمایہ کار خطے میں کشیدگی کم ہونے کی خبروں کو مثبت انداز میں لے رہے ہیں۔ ماہرین نے امید ظاہر کی ہے کہ اگر عالمی سطح پر سیاسی صورتحال مزید بہتر ہوتی ہے تو پاکستان کی معیشت اور مالیاتی مارکیٹس کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔







