خبر رساں ادارے کے مطابق یہ بات انہوں نے مغربی کنارے میں نئی ’یاتسیف‘ بستی کے افتتاح کے موقع پر اپنے خطاب میں کہی، جہاں انہوں نے کہا کہ اسرائیل ساحلی علاقے غزہ پر مکمل کنٹرول کے لیے مزید 20 سال انتظار نہیں کر سکتا۔

ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق سموٹریچ نے وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو سے غزہ پر فوری کنٹرول کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یا تو ہم ہوں گے یا وہ، یا اسرائیلی مکمل کنٹرول، حماس کی تباہی، دہشت گردی کے طویل المدتی دباؤ، دشمن کی ہجرت کی ترغیب اور مستقل اسرائیلی آبادکاری، یاخدا نہ کرے جنگ کی کوششیں، وسائل کا ضیاع اور اگلی لڑائی کا انتظار کرنا۔

اسرائیلی وزیرِ خزانہ نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اسرائیلی اسیران کی واپسی میں کردار پر شکریہ دیا جانا چاہیے، لیکن ان کی منصوبہ بندی اسرائیل کے لیے ناقص ہے اور اسے نظر انداز کرنا چاہیے۔

اسرائیلی وزیرخزانہ نے کہا کہ غزہ ہمارا ہے اور اس کا مستقبل ہمارے مستقبل پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوگا۔ اس لیے تل ابیب کو وہاں ہونے والے حالات کی ذمہ داری اٹھانی چاہیے اور فوجی حکمرانی نافذ کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی پیوٹن کو’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت، کیا روس شمولیت اختیار کرے گا؟

سموٹریچ نے اپنے سخت گیر دائیں بازو کے مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے مغربی کنارے کی کچھ بستیوں سے اخراج کے گناہ کو درست کر دیا ہے جو سنہ 2005 میں غزہ سے انخلا کے ساتھ ہوا تھا، لیکن ان کے مطابق ایک گناہ اب بھی درست نہیں کیا جا سکا، جب کہ اس کا موقع اور فرض موجود تھا اور وہ ہے گوش قطیف سے فلسطینیوں کا اخراج۔

 سموٹریچ نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ کیا یہ سب سے خوفناک قتلِ عام، جو ہولوکاسٹ کے بعد یہودی قوم پر ہوا، کافی نہیں تھا کہ اسرائیلی قیادت یہ سمجھ سکے کہ کیا کرنا چاہیے؟

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ پیس بورڈ تشکیل دیا تھا، جس میں شمولیت کے لیے انہوں نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کو بھی دعوت دی تھی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب غزہ کا انتظام سنبھالنے والی فلسطینی ماہرین پر مشتمل کمیٹی نے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں اپنا پہلا اجلاس منعقد کیا، جس میں امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر بھی شریک تھے، جو مشرقِ وسطیٰ کے معاملات میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ امن بورڈ کی رکنیت حاصل کرنی ہے تو ایک ارب ڈالر دو، ٹرمپ انتظامیہ نے مسودہ 60 ممالک کو بھجوا دیا

صدر ٹرمپ اس سے قبل خود کو ’بورڈ آف پیس‘ کا سربراہ قرار دے چکے ہیں اور جمعے کے روز انہوں نے اس بورڈ کے تمام ارکان کے ناموں کا اعلان کیا۔ ان میں ٹونی بلیئر کے علاوہ جیرڈ کشنر، امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور اسٹیو وِٹکوف شامل ہیں، جو ٹرمپ کے کاروباری ساتھی اور عالمی مذاکرات کار سمجھے جاتے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ اس بورڈ کی تشکیل کے لیے اسرائیل سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا اور بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اسرائیلی وزیرِ خارجہ گڈیون سار اس معاملے کو امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ اٹھائیں گے۔