سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے پیشی کے دوران مارکو روبیو نے امریکی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے مختلف بین الاقوامی تنازعات میں مؤثر کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان امن عمل کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کی، جب کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں بھی امریکی سفارت کاری شامل رہی۔

مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ ختم کرائی اور اس عمل میں ثالثی اور سفارتی کوششوں کے ذریعے ہماری مدد شامل تھی۔

انہوں نے امریکی خارجہ پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ دنیا بھر میں تنازعات کے حل کے لیے فعال سفارت کاری پر یقین رکھتی ہے اور کئی معاملات میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان امن عمل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ  ٹریپ  منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان امن معاہدے کا بنیادی ستون ہے اور اس کی نوعیت انقلابی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا اس عمل میں فعال طور پر شامل ہے اور حالیہ معاہدوں سے امریکی کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جب کہ اس سے آذربائیجان، آرمینیا اور خطے کے دیگر ممالک کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

مزید پڑھیں: جاپان نے ایران جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والی مہنگائی سے نمٹنے کے لیے 19 ارب ڈالر کا اضافی بجٹ منظور کر لیا

خیال رہے کہ مارکو روبیو کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب صدر ٹرمپ بھی متعدد مواقع پر یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ ان کی انتظامیہ نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے امکانات کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

تاہم انڈیا ماضی میں امریکی ثالثی کے دعوؤں کو مسترد کرتا رہا ہے اور نئی دہلی کا مؤقف رہا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان معاملات دوطرفہ سطح پر حل کیے جاتے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان نے مختلف مواقع پر بین الاقوامی سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے۔