تفصیلات کے مطابق عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ایران نے ہمیشہ ایک شفاف جوہری معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایسا جوہری معاہدہ جو جوہری ہتھیاروں سے پاک ہو اور ایران کے جائز حقوق کو یقینی بنائے، قابلِ قبول ہو سکتا ہے، تاہم کسی بھی قسم کی جارحیت کی صورت میں ایرانی فورسز فوری جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی نے بھی ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی تو امریکا، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

علی شمخانی نے کہا کہ امریکا کی جانب سے محدود حملے کی بات محض ایک فریب ہے، جب کہ کسی بھی امریکی حملے کا ایرانی ردعمل فوری، مکمل اور مثالی ہوگا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایک بہت بڑا بحری بیڑا ایران کی جانب بڑھ رہا ہے، جو وینزویلا بھیجے گئے بیڑے سے بھی بڑا ہے اور اس کی قیادت عظیم طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں؛ دنیا کے سب سے بڑے انعامی ٹیکنو فیسٹ کی تیاریاں عروج پر، پاکستانی نوجوان کیسے درخواست دے سکتے ہیں؟

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وینزویلا کی طرح یہ بحری بیڑا بھی ضرورت پڑنے پر طاقت اور تشدد کے ذریعے اپنا مشن فوری طور پر مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ انہیں امید ہے کہ ایران جلد از جلد مذاکرات کی میز پر آئے گا اور ایک منصفانہ اور مساوی معاہدے پر بات چیت کرے گا، ایسا معاہدہ جس میں کوئی جوہری ہتھیار شامل نہ ہوں اور جو تمام فریقین کے لیے بہتر ہو۔