نیٹو بڑی حد تک امریکی فوج کے حجم اور صلاحیتوں پر اںحصار کرتا ہے۔ امریکہ کا نیٹو سے انخلا ایک سنگین تباہی کا باعث بن سکتا ہے اور اس بین البراعظمی اتحاد کا خاتمہ کر سکتا ہے جو دوسری عالمی جنگ کے بعد سے قائم چلا آ رہا ہے۔

اگر امریکی صدر واقعی اس فیصلے پر عمل در آمد کرنا چاہیں تو انھیں سنگین قانونی اور پارلیمانی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایسے ہی کسی امکان کو مد نظر رکھتے ہوئے، سنہ 2023 میں کانگریس نے ایک قانون منظور کیا تھا جس کا واضح مقصد یہ تھا کہ کسی بھی امریکی صدر کو کانگریس کی منظوری کے بغیر یکطرفہ طور پر نیٹو سے امریکہ کو نکالنے سے روکا جا سکے۔

اب امریکہ کو نیٹو سے نکالنے کے لیے یا تو سینیٹ کے دو تہائی ارکان کی منظوری درکار ہو گی یا کانگریس کو کوئی مخصوص قانون منظور کرنا ہو گا۔ یہ مشکل ضرور ہے لیکن ٹرمپ کے لیے نا ممکن نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کی نئی رجیم کے صدر کم شدت پسند اور زیادہ سمجھدار، جنگ بندی کی درخواست کی ہے: ٹرمپ

قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ قانون دونوں جماعتوں کی مشترکہ کوشش کا نتیجہ تھا، جسے جزوی طور پر اُس وقت کے سینیٹر مارکو روبیو نے بھی آگے بڑھایا تھا۔

اب بطور وزیر خارجہ، مارکو روبیو نے حالیہ بیانات میں بالکل مختلف لہجہ اختیار کیا ہے۔ اس ہفتے انھوں نے نیٹو کو ’یکطرفہ سڑک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو اس اتحاد پر ’دوبارہ غور‘ کرنا ہو گا۔