سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق یمنی وزیر دفاع نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ یمن، سعودی بھائیوں کی عظیم قربانیوں، فراخدلانہ تعاون اور ہر سطح پر مسلسل حمایت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس اسٹریٹجک شراکت داری پر فخر کرتے ہیں جو آزادی کے مکمل حصول اور ایک محفوظ و خوشحال مستقبل کی بنیاد ثابت ہوگی۔

جنرل محسن الداعری نے کہا کہ وہ اتحاد کی قیادت کرنے والے سعودی بھائیوں کی حکمت بھری کوششوں اور مخلصانہ اقدامات پر شکریہ اور قدردانی کا اعادہ کرتے ہیں، جن کے باعث یمن میں سلامتی، استحکام اور ترقی ممکن ہو سکے گی۔

یمنی وزیر دفاع نے سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کے پیغام کو اس بات کی تصدیق قرار دیا کہ سعودی عرب یمن کی حمایت اور اس کی قانونی حکومت کے ساتھ کھڑا ہے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے، تمام فریقین کی کوششوں کو یکجا کرنے، ریاستی اداروں کی بحالی اور پوری قومی سرزمین کی آزادی میں دلچسپی رکھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات سے فیصلہ کن کامیابیوں کے اہداف اور امید کی واپسی ممکن ہوگی، جس سے یمن اور خطے میں امن و استحکام مضبوط ہوگا۔

دوسری جانب مشرقی یمن کے صوبوں میں صورتحال پر سعودی وزارت خارجہ نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ حضرموت اور المہرہ میں جنوبی عبوری کونسل کی جانب سے کیے گئے حالیہ فوجی اقدامات پر تشویش ہے، کیونکہ یہ کارروائیاں یمنی صدارتی کونسل کی منظوری یا اتحاد کی قیادت کے ساتھ ہم آہنگی کے بغیر کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا اس وقت صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا کوئی فوری ارادہ نہیں رکھتا، ڈونلڈ ٹرمپ

سعودی وزارت خارجہ کے مطابق ان اقدامات نے غیر ضروری تصادم کو جنم دیا، جس سے یمنی عوام کے مفادات اور جنوبی مسئلے کو نقصان پہنچا اور اتحاد کی کوششیں کمزور ہوئیں۔

سعودی عرب نے زور دیا کہ وہ ہمیشہ قومی یکجہتی پر توجہ مرکوز رکھتا ہے اور دونوں صوبوں میں صورتحال کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے تاکہ استحکام بحال ہو سکے۔

سعودی وزارت خارجہ نے تمام یمنی قوتوں اور گروپوں سے تعاون، ضبط نفس اور امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والے اقدامات سے گریز کی اپیل کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ تمام فریقین کو امن اور سماجی استحکام کی بحالی کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔