یہ فیصلہ کابینہ کی قرارداد نمبر (63) برائے 2026 کے تحت کیا گیا، جس کا مقصد دہشت گردی کی مالی معاونت اور غیر قانونی نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یو اے ای حکومت نے متعلقہ ریگولیٹری اداروں کو ہدایت دی ہے کہ ان تمام افراد اور کمپنیوں کے اثاثے 24 گھنٹوں کے اندر منجمد کر دیے جائیں اور ان کے مالی لین دین پر فوری پابندی عائد کی جائے۔

اقدام متحدہ عرب امارات کی اس وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کے تحت دہشت گردی کی مالی معاونت کے نیٹ ورکس کو ختم کرنے، مشکوک مالی سرگرمیوں کی نگرانی بڑھانے اور غیر قانونی فنڈنگ کے راستے بند کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

فہرست میں شامل لبنانی شہریوں میں علی محمد کرنیب، ناصر حسن نصر، حسن شہادہ عثمان، سامر حسن فواز، احمد محمد یزبک، عیسیٰ حسین قصیر، ابراہیم علی ظاہر، عباس حسن غریب، عماد محمد بزی، عزت یوسف عکر، واحد محمود صبیطی، مصطفیٰ حبیب حرب، محمد سلیمان بدیر، عادل محمد منصور، علی احمد کرشت اور نیما احمد جمیل شامل ہیں۔

اسی طرح جن کمپنیوں کو فہرست میں شامل کیا گیا ہے ان میں بیت المال المسلمین، القرض الحسن ایسوسی ایشن، التسهیلات کمپنی، دی آڈیٹرز فار اکاؤنٹنگ اینڈ آڈٹنگ اور الخبراء فار اکاؤنٹنگ، آڈٹنگ اینڈ سٹڈیز شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: علاقائی جنگ کے دوران سعودی عرب نے خفیہ طور پر ایران کے اندر حملے کیے: رپورٹ

حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات گزشتہ چند برسوں سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف اپنی پالیسی کو مزید سخت کر رہا ہے، خاص طور پر مالیاتی نگرانی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کو بروقت روکا جا سکے۔

یاد رہے کہ یہ فہرست وقتاً فوقتاً اپڈیٹ کی جاتی ہے اور اس میں شامل افراد و اداروں پر کڑی نگرانی برقرار رکھی جاتی ہے تاکہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔