گوتیرس نے کہا کہ “اب وقت آگیا ہے کہ یہ جنگ روکی جائے، اور قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ کیا جائے۔” انہوں نے ایران پر بھی زور دیا کہ وہ پڑوسی ممالک پر حملے بند کرے اور آبنائے ہرمز کی بندش کو فوری طور پر ختم کرے تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کے بہاؤ کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکے۔

سیکرٹری جنرل کے اس بیان کے بعد عالمی برادری میں تشویش پائی جاتی ہے کہ جنگ کے تسلسل سے نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان ہو رہا ہے بلکہ خطے میں اقتصادی اور سیاسی عدم استحکام بھی بڑھ رہا ہے۔

دوسری جانب یورپی یونین نے ایران جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے،خطے میں جاری کشیدگی کے باعث فی الحال یورپ کی جانب نقل مکانی میں کوئی غیر معمولی اضافہ نہیں ہوا، لیکن وہ اپنی سکیورٹی کے لیے تمام سفارتی، قانونی اور مالی وسائل بروئے کار لائے گا۔

یورپی یونین نے مزید کہا کہ ممکنہ انسانی اور نقل مکانی کے بحران کے لیے تیاریاں مکمل رکھی جائیں، تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کا فوری اور مؤثر جواب دیا جا سکے۔

مزید پڑھیں: بھارت: فلسطینی بچی پر مبنی آسکر نامزد فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘ پر پابندی عائد

واضع رہے کہ  بین الاقوامی اقدامات خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور انسانی جانوں کی حفاظت کے لیے اہم ہیں، اور عالمی طاقتیں اب زیادہ زور دے رہی ہیں کہ ایران اور اس کے پڑوسی ممالک کے درمیان تنازعات کو سیاسی اور سفارتی طور پر حل کیا جائے۔

اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے اس مؤقف سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عالمی برادری اب خطے میں مزید خونریزی کو روکنے اور انسانی بحران سے بچاؤ کے لیے عملی اقدامات کی طرف بڑھ رہی ہے۔