میڈیا سے  گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگر روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کے امکانات روشن ہوئے تو یوکرین اپنا نمائندہ مذاکرات کے لیے بھیجنے پر آمادہ ہو سکتا ہے۔

امریکی امن معاہدے کے مسودے سے متعلق بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ یوکرینی عوام اس معاہدے کی بنیادی سوچ سے متفق ہیں، اگرچہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اس پر تحفظات رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکا چاہتا ہے کہ یوکرین ڈونباس سے دستبردار ہو جائے، زیلنسکی کا انکشاف

ٹرمپ کے مطابق مجوزہ امن معاہدہ چار سے پانچ حصوں پر مشتمل ہے اور یہ اس لیے پیچیدہ ہے کہ اس میں خطے کی زمین کی خاص انداز میں تقسیم شامل ہے۔

واضع رہے کہ  یوکرینی صدر زیلنسکی نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے ڈونباس میں آزاد اقتصادی زون بنانے کی تجویز دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس اس علاقے پر مکمل کنٹرول چاہتا ہے، مگر یوکرین اسے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔