روسی حکام کے مطابق حملوں میں کم از کم 6 افراد ہلاک ہوئے، جب کہ متعدد ڈرونز ماسکو کے علاقے سمیت روس کے 17 مختلف علاقوں میں مار گرائے گئے۔
ماسکو کے گورنر آندرے ووروبیوف کے مطابق صرف ماسکو کے علاقے میں 187 ڈرونز کو فضائی دفاعی نظام اور الیکٹرانک وارفیئر یونٹس کے ذریعے ناکارہ بنایا گیا۔
روسی حکام کے مطابق ماسکو کے علاقے میں ایک بڑے آن لائن ریٹیل ادارے کے گودام کو بھی ڈرون حملے میں نقصان پہنچا، تاہم وہاں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
روس کے جنوبی علاقے روستوف میں بھی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جہاں حکام کے مطابق 5 افراد ہلاک ہوئے۔ یوکرینی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ روستوف میں روسی دفاعی صنعت سے منسلک ایک تنصیب کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب روس نے بھی یوکرین پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کے مطابق روس نے گزشتہ ہفتے کے دوران یوکرین پر 1550 سے زائد ڈرونز، تقریباً 1560 گائیڈڈ بم اور 62 میزائل داغے۔
زیلنسکی کے مطابق کیف سمیت مختلف علاقوں میں روسی حملوں کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا، جبکہ کریوی ریہ میں ایک اسٹیل پلانٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا جہاں 13 ملازمین زخمی ہوئے اور ایک شخص ہلاک ہوگیا۔
یوکرینی فضائیہ کے مطابق روس کی جانب سے داغے گئے بیلسٹک میزائلوں میں سے کوئی بھی مار گرایا نہیں جاسکا، جس سے یوکرین کے فضائی دفاعی نظام میں انٹرسیپٹر میزائلوں کی کمی ایک بار پھر نمایاں ہوگئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حسینہ واجد کی حوالگی تک وزیراعظم انڈیا کا دورہ نہیں کریں گے، بنگلہ دیش
رومانیہ کی وزارت دفاع کے مطابق اس کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ایک نامعلوم ڈرون کو بھی مار گرایا گیا۔ ڈرون کو نیٹو کے فضائی نگرانی مشن پر موجود اسپین کے ایک ایف 18 لڑاکا طیارے نے نشانہ بنایا۔
روس اور یوکرین کے درمیان حالیہ عرصے میں ڈرون حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں کیف روس کے اندر دور تک فوجی تنصیبات، صنعتی مراکز اور توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے، جب کہ ماسکو بھی یوکرین کے شہروں پر میزائل اور ڈرون حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔







