یوکرینی حکام کے مطابق روسی ڈرون نے منگل کی شب شمال مشرقی خارکیف ریجن کے قصبے بوہودوخیو میں ایک نجی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 34 سالہ باپ اور اس کے تین بچے دو سالہ جڑواں بیٹے اور ایک سالہ بیٹی موقع پر جاں بحق ہو گئے۔ حملے میں گھر مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور خاندان ملبے تلے دب گیا۔
ریجنل پراسیکیوٹر آفس کے مطابق 35 ہفتوں کی حاملہ ماں کو ریسکیو ٹیموں نے شدید زخمی حالت میں ملبے سے نکالا۔ انہیں دھماکے سے ہونے والے زخم، دماغی چوٹ، جلنے کے زخم اور سماعت سے محرومی کا سامنا ہے اور وہ اسپتال میں زندگی کی جنگ لڑ رہی ہیں۔
بوہودوخیو کے میئر وولودی میر بیلئی نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ شہر میں تین روزہ سوگ منایا جائے گا۔ ہم نے اپنا سب سے قیمتی اثاثہ اپنا مستقبل کھو دیا ہے۔ ایک ماں کے دل کا دکھ کوئی دعا بھی کم نہیں کر سکتی۔
صدر زیلنسکی کے مطابق منگل کی رات سے روس نے یوکرین پر 129 طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون داغے۔ ان حملوں میں زاپوریزژیا کے ایک اسپتال، سومی ریجن کے شہر کونوتوپ میں ریلوے ڈپو اور دنیپرو و پولتاوا کے علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب سومی ریجن میں ایک علیحدہ ڈرون حملے میں مزید دو بچے جان کی بازی ہار گئے، یوکرینی حکام کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران متعدد اضلاع کو نشانہ بنایا گیا۔
زیلنسکی نے کہا کہ یہ حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ روس جنگ روکنے کی تیاری نہیں کر رہا بلکہ لڑائی جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر روسی حملہ سفارتی کوششوں پر اعتماد کو کمزور کرتا ہے اور ثابت کرتا ہے کہ صرف روس پر سخت دباؤ اور یوکرین کے لیے واضح سیکیورٹی ضمانتیں ہی اس خونریزی کو روک سکتی ہیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق مشن کے مطابق گزشتہ سال 2022 کے بعد یوکرین میں شہریوں کے لیے سب سے مہلک ثابت ہوا۔ رپورٹ کے مطابق 2025 میں اب تک 2,514 شہری ہلاک اور 12,142 زخمی ہو چکے ہیں، جو 2024 کے مقابلے میں 31 فیصد زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: پاک انڈیا جنگ میں 10 طیارے مار گرائے گئے تھے، ڈونلڈ ٹرمپ کا نیا دعویٰ
دوسری جانب یوکرین کی جنرل اسٹاف نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فضائیہ، میزائل اور توپخانے نے روسی افواج کے نو مراکز، ایک ڈرون کنٹرول پوائنٹ، چھ توپخانہ نظام اور پانچ کمانڈ پوسٹوں کو نشانہ بنایا۔
روسی حکام کے مطابق یوکرینی ڈرون حملے کے باعث وولگوگراد کے ایک صنعتی پلانٹ میں آگ بھڑک اٹھی، جب کہ رہائشی عمارت کو بھی نقصان پہنچا۔
روسی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس نے رات بھر میں 108 یوکرینی ڈرون مار گرائے، جب کہ آٹھ روسی ہوائی اڈوں پر عارضی طور پر پروازیں معطل کی گئیں۔
ادھر بین الاقوامی فوجداری عدالت روسی حکام کے خلاف جنگی جرائم کے الزامات پر وارنٹ گرفتاری جاری کر چکی ہے، جن میں صدر ولادیمیر پیوٹن بھی شامل ہیں۔ روس ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔
جنگ کے تقریباً چار سال مکمل ہونے کو ہیں اور اگرچہ مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کو فوجی امداد جاری ہے، تاہم رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال امریکی امداد میں کمی آئی، جب کہ یورپی ممالک نے اپنے حصے میں اضافہ کیا ہے۔
تازہ حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور شہری آبادی ایک بار پھر خوف و ہراس کا شکار ہے، جب کہ عالمی برادری کی سفارتی کوششیں تاحال کسی واضح پیش رفت سے محروم دکھائی دیتی ہیں۔







