غیرملکی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ماسکو میں ہونے والے اپنے سالانہ سوال و جواب کے خصوصی پروگرام ریزلٹس آف دی ایئر سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر کا کہنا تھا کہ زیلنسکی کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ وہ علاقوں سے متعلق کسی بھی قسم کی گفتگو کے لیے آمادہ نہیں، جب کہ یوکرین کا آئین بھی کسی علاقے کے ترک کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
پیوٹن نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ یوکرین چار اہم علاقوں سمیت کریمیا کو روس کے حوالے کرے، جسے روس نے 2014 میں ضم کر لیا تھا۔ یوکرینی افواج کو مشرقی ڈونیٹسک کے ان علاقوں سے بھی انخلا کرنا چاہیے جن پر روسی افواج نے ابھی مکمل قبضہ نہیں کیا، تاہم کیف حکومت نے ان مطالبات کو مسترد کر دیا ہے۔
پیوٹن نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج کو میدانِ جنگ میں مکمل برتری حاصل ہو چکی ہے اور رواں سال کے اختتام سے قبل مزید پیش رفت متوقع ہے۔ مغربی اندازوں کے مطابق روسی افواج 2025 کے دوران روزانہ 12 سے 17 مربع کلومیٹر علاقے پر قبضہ کر رہی ہیں۔
روسی صدر نے مغربی ممالک کی جانب سے منجمد روسی اثاثوں کے استعمال کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے کھلی ڈکیتی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو کچھ بھی لیا گیا ہے، ایک دن واپس کرنا پڑے گا اور روس اس معاملے کو آزاد عدالتوں میں لے کر جائے گا۔
مزید پڑھیں: امریکا غزہ میں اسرائیل کی جنگ بندی کی خلاف ورزیاں فوری رکوائے، قطر
دوسری جانب یورپی یونین کے رہنماؤں نے یوکرین کو آئندہ دو برسوں کے لیے فوجی اور معاشی ضروریات پوری کرنے کی غرض سے 105 ارب ڈالر کا سود سے پاک قرض فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یہ رقم روسی اثاثے استعمال کرنے کے بجائے عالمی منڈیوں سے حاصل کی جائے گی۔
خیال رہے کہ یہ بیانات ایک ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہے ہیں، تاہم ماسکو اور کیف کے سخت مؤقف کے باعث مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق فروری 2022 میں جنگ کے آغاز کے بعد اب تک روس اور یوکرین مجموعی طور پر 20 لاکھ سے زائد جانی نقصان اٹھا چکے ہیں، تاہم دونوں ممالک ہلاکتوں کے مستند اعداد و شمار جاری نہیں کرتے۔







