عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے جمعے کو جاری کی گئی 33 صفحات پر مشتمل دستاویز میں یورپ پر ’تہذیبی خاتمے‘ کے خدشات، مہاجرین کے بحران، آزادی اظہار پر پابندیوں اور امیگریشن مخالف آوازوں کو دبانے جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اس میں یہ بھی عندیہ دیا گیا ہے کہ امریکا اپنے سیکیورٹی شیڈ کے ممکنہ خاتمے پر غور کر سکتا ہے۔
پیرس میں جیک ڈیلور انسٹی ٹیوٹ میں خطاب کرتے ہوئے کوسٹا نے کہا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد اتحادیوں کے تعلقات بدل چکے ہیں اور یورپ کو اپنی سمت خود متعین کرنا ہوگی۔
انہوں نے امریکی دستاویز میں یورپ پر آزادی اظہار سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یورپ کی سیاسی زندگی میں مداخلت کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ امریکی شہری یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ ہمارے لیے کون سی سیاسی جماعتیں درست ہیں اور کون سی نہیں۔
کوسٹا نے خبردار کیا کہ ’ٹیکنالوجی کے امریکی اولیگارکس‘ کے مفاد میں شہریوں کی معلومات کی آزادی قربان کر کے آزادی اظہار کو برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔
برلن میں جرمن حکومت کے نائب ترجمان سیباسٹین ہلے نے کہا کہ امریکی دستاویز میں شامل کئی اعتراضات ’حکمتِ عملی کم اور نظریاتی زیادہ‘ ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ یورپی یونین آزادی اظہار سمیت بنیادی سیاسی آزادیوں پر قائم ہے اور برلن اس بات سے بھی اتفاق نہیں کرتا کہ روس کو خطرہ قرار نہ دینا ’غلط فہمیاں پیدا کرنے والا‘ ہے۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکی صدر کے طور پرآے آئی کے لیے ون رول بک ایگزیکٹو آرڈر جاری کرنے کا اعلان
روس نیٹو کے مطابق ٹرانس-اٹلانٹک سیکیورٹی کے لیے واضح خطرہ ہے۔ روس سے متعلق امریکی موقف نے یورپ کو تشویش میں ڈال دیا۔ امریکی اسٹریٹجی روس کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے اور یوکرین جنگ ختم کرنے کو ’کور انٹرسٹ‘ قرار دیتی ہے۔
ابتدائی امریکی امن پلان، جس میں روس کے زیر قبضہ یوکرینی علاقوں کو برقرار رکھنے کی اجازت کا تاثر تھا، نے یورپی ممالک میں شدید تشویش پیدا کی۔ بعد ازاں اس منصوبے میں یوکرین اور یورپی اتحادیوں کی تجاویز شامل کی گئیں، مگر مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
کوسٹا نے کہا کہ یہ حکمت عملی ’منصفانہ اور دیرپا امن‘ کے بجائے صرف ’دشمنیاں روکنے‘ اور روس کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنے پر زور دیتی ہے۔







