یہ اجتماع نئے امیر حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں ہونے والا پہلا بڑا عوامی مظاہرہ تھا۔ حافظ نعیم نے اسے ’’نظام کی پرامن اسلامی تبدیلی کی بنیاد‘‘ قرار دیا۔ جماعتِ اسلامی نے اس بار روایتی تربیتی اجتماع کو وسیع سیاسی اجتماع کی شکل دی، جہاں ملک بھر سے کارکنان، نوجوان اور اصلاح پسند شہری بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔
اجتماع میں شریک افراد کی اصل تعداد پر سیاسی حلقوں میں خاصا بحث جاری ہے۔ جماعتِ اسلامی نے دعویٰ کیا کہ لاکھوں افراد نے شرکت کی، جب کہ آزاد مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق حاضری توقعات سے کم رہی۔ بعض نے اسے ’’حیران کن طور پر کم‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اتنے بڑے دعووں کے باوجود جماعت عوامی حمایت کو وسیع سیاسی قوت میں تبدیل نہیں کر سکی۔
اجتماع کے داخلی انتظامات کو عمومی طور پر بہترین قرار دیا گیا۔ شرکاء کے لیے رہائش، کھانے پینے، کیمپنگ اور سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔ مرد و خواتین کے لیے مکمل علیحدگی کا نظام بھی برقرار رکھا گیا، جسے جماعت نے اپنی تنظیمی طاقت کا مظہر قرار دیا۔
جماعتِ اسلامی اجتماعِ عام سے ظاہر کیا کرنا چاہتی ہے؟ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا اور کیا سچ میں نظام بدل جائے گا؟ ان تمام سوالات کے جوابات جاننے کے لیے ویڈیو کو مکمل دیکھیں۔







