چینی میڈیا پیپلز ڈیلی چین نے چین کی قومی ریلوے گروپ کمپنی لمیٹڈ کے حوالے سے بتایا ہے کہ چودہویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران ملک بھر میں ریلوے نیٹ ورک میں نمایاں توسیع دیکھنے میں آئی۔

رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں چین میں ریلوے کی مجموعی لمبائی ایک لاکھ 46 ہزار 300 کلومیٹر سے بڑھ کر ایک لاکھ 65 ہزار کلومیٹر ہو گئی، جس میں 12.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اسی دوران ہائی اسپیڈ ریلوے نیٹ ورک میں بھی غیر معمولی توسیع ہوئی اور اس کی لمبائی 32.98 فیصد اضافے کے ساتھ 37 ہزار 900 کلومیٹر سے بڑھ کر 50 ہزار 400 کلومیٹر تک جا پہنچی، جس سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ چین دنیا کا سب سے بڑا اور جدید ترین ہائی اسپیڈ ریل نیٹ ورک رکھنے والا ملک بن چکا ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران چین اپنے ریلوے نیٹ ورک کی تعمیر کو مزید وسعت دے گا۔ منصوبے کے تحت 2030 تک ملک بھر میں ریلوے لائنز کی مجموعی لمبائی تقریباً ایک لاکھ 80 ہزار کلومیٹر تک پہنچنے کا امکان ہے، جب کہ ہائی اسپیڈ ریل نیٹ ورک کی لمبائی تقریباً 60 ہزار کلومیٹر ہو جائے گی۔

اس منصوبے کے تحت آٹھ عمودی اور آٹھ افقی ہائی اسپیڈ ریلوے لائنوں پر مشتمل ایک مکمل نیٹ ورک تشکیل دیا جائے گا، جس سے علاقائی رابطوں اور باہمی مربوط ہونے کی سطح میں نمایاں بہتری آئے گی۔

اس کے علاوہ مال بردار ریلوے نیٹ ورک کی صلاحیت میں بھی بڑے پیمانے پر اضافہ کیا جائے گا، جب کہ دنیا کے معیار کے مطابق جدید ترین ریلوے نیٹ ورک کی بنیادی تعمیر مکمل کر لی جائے گی۔