نجی نشریاتی اداروں نے پی سی بی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سری لنکا کے وینیوز دستیاب نہ ہوئے تو پاکستان کے تمام وینیوز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچز کے انعقاد کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ پی سی بی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں حال ہی میں چیمپئنز ٹرافی اور آئی سی سی ویمنز کوالیفائر جیسے بڑے ایونٹس کامیابی سے منعقد ہو چکے ہیں، اس لیے ورلڈ کپ میچز کرانا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
دوسری جانب بنگلا دیش نے انڈیا میں ورلڈ کپ میچز کھیلنے سے انکار کر رکھا ہے۔ بنگلا دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے انڈیا میں کھلاڑیوں کی سیکیورٹی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، جب کہ آئی سی سی کی جانب سے تاحال میچز کی منتقلی سے متعلق حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں بنگلا دیش نے اپنے مؤقف پر سختی سے قائم رہتے ہوئے واضح کیا تھا کہ کھلاڑیوں کی سلامتی اور قومی وقار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ بی سی بی نے متبادل وینیو کے طور پر سری لنکا میں میچز کھیلنے کی خواہش ظاہر کی تھی اور اس حوالے سے آئی سی سی کو دوبارہ خط لکھنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
After the BCB refused to travel to India, Pakistan has reportedly expressed interest in hosting Bangladesh’s T20 World Cup matches if Sri Lankan venues are unavailable.
— Sports.Breeze (@thesportsbreeze) January 11, 2026
However, despite Pakistan’s interest, the move appears unlikely with the tournament less than a month away. pic.twitter.com/XQVEHfrDmg
ڈھاکا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بنگلا دیش کے اسپورٹس ایڈوائزر ڈاکٹر آصف نذرل نے کہا تھا کہ بنگلا دیش ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کر چکا ہے اور کرکٹ سے محبت کرنے والا ملک ہے، تاہم کھلاڑیوں کی سلامتی کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ آئی سی سی کو مؤثر انداز میں بنگلا دیش کے تحفظات سے آگاہ کیا جائے گا۔
ڈاکٹر آصف نذرل کا کہنا تھا کہ آئی سی سی کی جانب سے بھیجے گئے خط میں انڈیا میں بنگلا دیشی کھلاڑیوں کو درپیش سیکیورٹی خدشات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، جو ایک تشویشناک امر ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا تھا کہ انڈین کرکٹ بورڈ کی جانب سے کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو مستفیض الرحمان کو سیکیورٹی فراہم نہ کرنے کا بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ انڈیا میں کھیل کے لیے ماحول مکمل طور پر محفوظ نہیں۔
اس موقع پر بی سی بی کے صدر امین الاسلام نے تھا کہا کہ کسی بھی غیر ملکی دورے کے لیے حکومتی اجازت ضروری ہوتی ہے، اس لیے بنگلا دیش کرکٹ بورڈ حکومت کے فیصلے کا پابند ہے۔ اگر سیکیورٹی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو بنگلا دیش اپنے حق کے لیے آواز بلند کرتا رہے گا۔
بی سی بی صدر نے کہا تھا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ آئی سی سی نے سری لنکا میں میچز کرانے کو ناممکن قرار دیا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں بھی پاکستان اور انڈیا کے درمیان اسی نوعیت کے معاملات کا حل نکالا گیا تھا، لہٰذا موجودہ صورتحال میں بھی قابلِ قبول حل کی توقع کی جا رہی ہے۔







