ان منصوبوں کے تحت بھاولنگر، اٹک، سرگودھا، خوشاب، فیصل آباد اور شیخوپورہ میں براڈ بینڈ سہولیات فراہم کی جائیں گی، جبکہ چنیوٹ اور ایبٹ آباد میں ہائی اسپیڈ براڈ بینڈ کے ساتھ وائس کمیونیکیشن سروسز بھی شروع کی جائیں گی۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ ان منصوبوں سے 203 دیہات اور گاؤں کے 5 لاکھ 33 ہزار سے زائد شہری ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کر سکیں گے، جس سے تعلیم، صحت، کاروبار اور روزگار کے مواقع میں نمایاں بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام منصوبے چھ سے اٹھارہ ماہ کے اندر مکمل کیے جائیں گے، اور یہ ملک میں ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوں گے۔
وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ ملک میں کنیکٹیویٹی کے مسائل کے حل کے لیے اسپیکٹرم میں اضافے اور فائیو جی سروسز کے آغاز کا عمل آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ یو ایس ایف کے تحت اربوں روپے کی لاگت سے براڈ بینڈ اور آپٹیکل فائبر کیبل کے نئے منصوبے متعارف کرائے جا رہے ہیں تاکہ ہر شہری جدید ڈیجیٹل دنیا سے منسلک ہو سکے۔ شزہ فاطمہ نے انکشاف کیا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران یو ایس ایف کے تحت 20 ارب 50 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے منصوبوں کی منظوری دی جا چکی ہے، جو "ڈیجیٹل پاکستان" کے وژن کے حصول کے لیے ایک اہم قدم ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ منصوبے نہ صرف آن لائن تعلیم، کاروبار اور صحت کی سہولیات میں بہتری لائیں گے بلکہ ملک کی معیشت اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کریں گے۔ دور دراز علاقوں میں ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ کی فراہمی، جدید ٹیکنالوجی تک رسائی اور ڈیجیٹل شمولیت کے لیے یہ منصوبے ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں، جس سے ملک کے ہر شہری تک ڈیجیٹل سہولیات کی رسائی ممکن ہوگی۔







