نجی نشریاتی ادارے دنیا نیوز کے مطابق یہ فراڈ ایک کاروباری شخصیت نے کیا جو بھاری رقم ہڑپ کرنے کے بعد پاکستان سے فرار ہو گیا۔ بتایا گیا ہے کہ کرکٹرز نے ایک سابق کپتان کو دیکھتے ہوئے اس کاروبار میں سرمایہ کاری کی، جبکہ بعض کھلاڑیوں نے براہ راست بھی اس شخص کو رقم دی تھی۔

متاثرہ افراد میں سابق اور موجودہ کپتانوں کے نام بھی شامل ہیں، جبکہ ایک معروف کرکٹ ایجنٹ بھی اس مبینہ فراڈ میں رقم سے محروم ہونے والوں میں شامل ہے۔ اس معاملے کے باعث کئی قومی کھلاڑی اپنی کروڑوں روپے کی جمع پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدا میں کھلاڑیوں کو غیر معمولی منافع ملتا رہا، تاہم بعد میں کاروباری شخص اچانک منظر سے غائب ہو گیا۔ کھلاڑیوں نے چند ہفتوں تک اس سے رابطے کی کوشش کی، بعض کو جزوی رقم واپس بھی ملی، مگر گزشتہ دو ماہ سے منافع کی ادائیگی مکمل طور پر بند ہے۔

بتایا گیا ہے کہ مبینہ فراڈ کرنے والا شخص اس وقت امریکا میں مقیم ہے اور اس کے کئی پاکستانی کرکٹرز سے ذاتی تعلقات تھے۔ متاثرہ کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ اس کا فون بند ہے اور کسی بھی ذریعے سے رابطہ ممکن نہیں ہو پا رہا۔

خیال رہے کہ اب تک اس معاملے پر کسی پلیٹ فارم پر باضابطہ شکایت درج نہیں کرائی گئی اور نہ ہی پہلے مرحلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے قومی کرکٹرز سے رابطہ کر کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ چیئرمین کے رابطے پر کھلاڑیوں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے اور معاملے کے جلد حل ہونے کی امید ظاہر کی ہے۔