رانا ثناء اللہ کہتے ہیں کہ سیاست میں معاملات کو آگے بڑھانے کے لیے لچک درکار ہوتی ہے، تاہم بانی پی ٹی آئی کا طرزِ عمل مفاہمت کے بجائے سخت مؤقف پر مبنی ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی پیش کردہ شرائط کسی بھی فریق کے لیے قابل قبول نہیں، کیونکہ ان کے بقول مطالبہ یہ تھا کہ "آپ میری جگہ آ جائیں اور میں آپ کی جگہ آ جاتا ہوں"، جسے عملی سیاست میں ممکن نہیں سمجھا جا سکتا۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب سابق وزیراعظم نواز شریف جیل میں تھے تو ان کی حالت بگڑی، پلیٹ لٹس گرے، ہسپتال پہنچے اور پھر لندن جاپہنچے، وہ شخص جو آخری سانسوں پر تھا اللہ کے کرم سے آج مری کے مال روڈ پر دہی بھلے اور سری پائے سے لطف اندوز ہوتے پایا جاتا ہے۔ وہی شخص وزیراعلیٰ پنجاب کا دماغ ہے، پالیسی ساز اور منصوبہ بند ہے۔
اس وقت بھی یہی باتیں کی گئی تھیں کہ ’نواز شریف ملک چھوڑ کرباہر نہیں جانا چاہتے۔‘ آج جس کردار میں رانا ثناء اللہ ہیں عمران خان دور میں یہ کردار ڈاکٹر یاسمین راشد اور ڈاکٹر شیریں مزاری نبھا رہی تھیں۔
بس فرق اتنا ہے کہ فروری 2019 میں نوازشریف کے پلیٹ لٹس گرے تھے فروری 2026 میں عمران خان ’اپنی نظروں‘ سے گر گئے ہیں۔ ان کی آنکھ کی خرابی کو عالمی مسئلہ بناکر پیش کیا جارہا ہے، انڈیا کا میڈیا ہویا امریکا و یورپ کے ٹی وی چینلز سبھی ہمدردی کا اظہار کررہے ہیں، کھلاڑی ہوں یا شوبز کی شخصیات سب مریض کا علاج کروانے کی بات کررہے ہیں، خیر یہ ان کا حق ہے اور اس حق سے محروم نہیں رکھنا چاہیے۔
اسٹیبلشمنٹ اور سیاستدانوں پر گہری نظر رکھنے والے صاحب کہتے ہیں کہ اڈیالہ جیل کے قیدی اور ’ریاست‘ میں ڈیل ہوچکی ہے، اس ڈیل کروانے میں اہم کردار وہی ہے جس نے عمران خان کو وزیراعظم بنانے میں کردارادا کیا تھا، جب ان سے سوال کیا گیا کہ ایسا کیسے ممکن ہوا تو وہ فرماتے ہیں کہ یہاں کچھ ممکن نہیں۔
یہ سب کیسے ہوگا؟ بولے کہ پلان وہی پرانا ہے، پہلے ہسپتال جائیں گے جہاں 10 کمرے تیار کیے جارہے ہیں، پھر اس ملک جائیں گے جو انہیں قبول کرے گا، فی الحال کوئی بھی ملک ان کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔
2000 کے بعد کی سیاست پر نظر ڈالیں تو این آر او ہوا تھا پھر 2007 میں بھی ایسا ہوا تھا، اب کی بار کچھ ایسا ہوا تو پھر کس ملک کے ایما پر ہو گا؟ یہ این آر او کسی سیاسی جماعت نے کسی دوسری سیاسی جماعت کے ساتھ نہیں کیا تھا، یہ ایک فوجی حکمران نے کیا تھا۔
پاکستان میں جب بھی کام کرنا مقصود ہوتا ہے تو پہلے اس کے حق اور مخالفت دونوں میں فضا بنائی جاتی ہے، ہمدردی کی فضا بنائی جاتی ہے، پاکستان ہو یا برصغیر کا کوئی ملک یہاں ہمدردی کے نام پر کسی کو بھی بے وقوف بنایا جاسکتا ہے، ووٹ لیا جاسکتا ہے۔
موجودہ حکومت اگر چاہے بھی تو کسی کو این آر او دے نہیں سکتی اور نہ چاہے تو بھی کسی این آر او سے روک نہیں سکتی۔ مگر یہ حکومت تو چاہتی ہے کہ ’مفاہمت‘ ہو، پی ٹی آئی کی قیادت کی تاریخ رہی ہے کہ ہمیشہ شور مچاتی ہے، معاملے کی بلندی پر جاکر ’’یوٹرن‘‘ لے لیتی ہے۔ اس بار بھی ایسا ہوتا نظر آرہا ہے، کیمرے کے سامنے تو بھوک ہڑتال کی جاتی ہے مگر پچھلے دروازے سے مرغن غذائیں بھی منگوائی جاتی ہیں۔ سب دکانداروں کے چہروں پر موجود بے چینی بتاتی ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے جو اُن سے بالا بالا ہے۔
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر







