ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی دور کے یہ آکٹوپس نہایت طاقتور شکاری تھے، جو مضبوط بازوؤں کے ذریعے شکار کو جکڑتے اور چونچ نما جبڑوں کی مدد سے خول اور ہڈیوں تک کو چبا سکتے تھے۔

تحقیق میں دریافت ہونے والے قدیم فوسل جبڑوں کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ آکٹوپس لمبائی میں 19 میٹر تک پہنچ سکتے تھے، جو انہیں ممکنہ طور پر اب تک کے سب سے بڑے غیر فقاری جانداروں میں شامل کرتا ہے۔

ماضی میں ماہرین کا خیال تھا کہ سمندروں کے سب سے بڑے شکاری ریڑھ کی ہڈی رکھنے والے جاندار، جیسے مچھلیاں اور سمندری رینگنے والے جانور تھے، جب کہ آکٹوپس اور سکویڈ جیسے غیر فقاری جاندار نسبتاً کم اہم کردار ادا کرتے تھے۔

تاہم جاپان کی ہوکاڈیو یونیورسٹی کے سائنس دانوں کی نئی تحقیق نے اس تصور کو چیلنج کر دیا ہے۔

فوسل جبڑوں کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ یہ دیوہیکل آکٹوپس بڑے سمندری جانوروں کے سخت خول اور کنکال تک چبانے کی صلاحیت رکھتے تھے، جو انہیں انتہائی خطرناک شکاری بناتا ہے۔

تحقیق کے مطابق ان کا جسمانی حجم 1.5 سے 4.5 میٹر تک ہو سکتا تھا، جب کہ بازوؤں سمیت مجموعی لمبائی 7 سے 19 میٹر تک پہنچ جاتی تھی۔

سائنس دانوں نے ایک اور حیران کن پہلو کی نشاندہی کی ہے کہ ان فوسل جبڑوں کا گھساؤ یکساں نہیں بلکہ ایک جانب زیادہ ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ جاندار خوراک حاصل کرتے وقت ایک خاص رخ کو ترجیح دیتے تھے۔

ماہرین کے مطابق ایسی خصوصیت جدید جانداروں میں دماغی پیچیدگی اور اعلیٰ ذہانت سے جڑی ہوتی ہے۔

آج کے دور میں آکٹوپس اپنی ذہانت، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور پیچیدہ شکار کی حکمت عملیوں کے لیے مشہور ہیں۔

موجودہ دور کا سب سے بڑا آکٹوپس، یعنی جائنٹ پیسیفک آکٹوپس، تقریباً 5.5 میٹر تک بازو پھیلا سکتا ہے اور ویڈیوز میں اسے ایک میٹر لمبی شارک کو پکڑتے بھی دیکھا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قدیم دور کے یہ آکٹوپس اس سے کہیں زیادہ طاقتور اور بڑے ہو سکتے تھے۔

اگرچہ اس تحقیق نے کئی نئے رازوں سے پردہ اٹھایا ہے، تاہم ابھی بھی بہت سے سوالات باقی ہیں، جیسے ان جانداروں کی مکمل ساخت کیا تھی، وہ کتنی تیزی سے تیرتے تھے اور ان کی اصل خوراک کیا تھی۔

ماہر حیاتیات ڈاکٹر نک لونگریچ کے مطابق امکان ہے کہ یہ آکٹوپس امونائٹس جیسے جانداروں کا شکار کرتے تھے، تاہم جدید آکٹوپس کی طرح یہ بھی موقع پرست شکاری رہے ہوں گے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ دریافت قدیم سمندری دنیا کی ایک جھلک پیش کرتی ہے، جہاں دیوہیکل آکٹوپس اپنی طاقتور بازوؤں، مضبوط جبڑوں اور ممکنہ ذہانت کے ساتھ دوسرے بڑے شکاریوں کا مقابلہ کرتے تھے۔

یہ تحقیق نہ صرف سمندری حیات کے بارے میں ہماری سمجھ کو بدل رہی ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ زمین کی تاریخ میں ایسے حیران کن جاندار موجود رہے ہیں جن کا تصور بھی مشکل ہے۔