عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، گوگل کلاؤڈ کے سی ای او تھامس کوریان نے نئی دہلی میں تقریب کے دوران کہا کہ یہ امریکا کے باہر گوگل کا سب سے بڑا اے آئی ہب ہوگا۔

ان کے مطابق، یہ منصوبہ انڈیا کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش کے شہر وشاکھاپٹنم میں قائم کیا جائے گا، جو ابتدا میں گیگا واٹ سطح پر کام کرے گا اور مستقبل میں کئی گیگا واٹس تک وسعت اختیار کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ گوگل انڈیا میں ڈیجیٹل ترقی کے اگلے مرحلے کی بنیاد رکھ رہا ہے، جہاں مصنوعی ذہانت کاروبار، تعلیم اور عوامی خدمات کے لیے نئے امکانات کھولے گی۔

واضح رہے کہ انڈیا میں اے آئی ٹیکنالوجی کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے، کیونکہ کاروباری اداروں کے ساتھ ساتھ عام صارفین بھی اسے بڑے پیمانے پر اپنا رہے ہیں۔ اندازے کے مطابق رواں سال کے اختتام تک انٹرنیٹ صارفین کی تعداد 90 کروڑ سے تجاوز کر جائے گی۔

انڈیا کے وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اشونی ویشنو نے گوگل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ سرمایہ کاری ڈیجیٹل انڈیا کے وژن کی تکمیل میں اہم کردار ادا کرے گی، جب کہ آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ چندر بابو نائیڈو نے اسے عوام کے لیے بڑی خوشخبری قرار دیا۔

یاد رہے کہ رواں ماہ امریکی اسٹارٹ اپ انتھروپک نے بھی اعلان کیا تھا کہ وہ اگلے سال انڈیا میں اپنا دفتر کھولے گا، جب کہ اوپن اے آئی نے بھی رواں سال کے آخر تک انڈیا میں دفتر قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹ مین کے مطابق، گزشتہ سال کے دوران انڈیا میں چیٹ جی پی ٹی کے استعمال میں چار گنا اضافہ ہوا ہے، جو ملک میں مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت کو ظاہر کرتا ہے۔